ملتان: بائیو گیس پلانٹ سے چار گھروں کا چولہا کیسے جل رہا ہے؟

3 months ago 33

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور ایل پی جی سلینڈرز کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے اس دور میں ملتان کے نواحی علاقے موضع بستی کام والی کے رہائشی محمد رمضان نے اپنے گھر میں ایک ایسا بائیو گیس پلانٹ نصب کیا ہے جو دیہی علاقوں کے لیے ایک شاندار مثال بن گیا۔ 

محمد رمضان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے ملک میں ہوا بہت زیادہ آلودہ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

’پہلے لوگ آگ جلانے کے لیے اندھا دھند درخت کاٹتے تھے جس سے علاقے کی قدرتی خوبصورتی ضائع ہو رہی تھی، اسی لیے انہوں نے سوچا کہ جب اپنے جانور اور ان کا گوبر موجود ہے تو کیوں نہ کوئی ایسا ماحول دوست کام کیا جائے جس سے درخت بھی بچیں اور کچن بھی چلتا رہے۔‘

biogas plant2.jpg

بائیو گیس پلانٹ بنانے والے محمد رمضان کے مطابق ان کی ایل پی جی سلینڈر لانے لے جانے کے جھنجٹ سے جان چھوٹ گئی (انڈپینڈنٹ اردو)

انہوں نے مزید بتایا کہ بائیوگیس پلانٹ کی تیاری پر ان کا تقریباً تین سے سوا تین لاکھ روپے خرچہ آیا ہے، جس کا نقشہ اور ڈیزائن انہوں نے خود کر تیار کیا اور پھر مستری کو گائیڈ کر کے کنواں اور حوض بنوائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلانٹ کو چلانے کے لیے روزانہ صبح جانوروں کا گوبر اکٹھا کر کے ہاتھ والی دو سے تین ٹرالیاں ایک چھوٹے حوض میں ڈالی جاتی ہیں اور پھر پانی کے ساتھ ایک دستی چکی کی مدد سے اچھی طرح مکس کر کے اسے نیچے کنویں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں گیس بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’عام طور پر بائیو گیس میں بدبو کا تاثر پایا جاتا ہے لیکن اس گیس کی کوئی بدبو نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے سپلائی لائن کے راستے میں دو فلٹر لگائے ہوئے ہیں جو معمولی نمی اور بو کو وہیں روک لیتے ہیں اور کچن تک صرف صاف گیس پہنچتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاشی فائدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں ایل پی جی سلینڈر ساڑھے پانچ ہزار روپے کا ملتا ہے اور اس حساب سے چار گھروں کا سالانہ خرچہ دو لاکھ چالیس ہزار روپے بنتا ہے، لیکن اب اس پلانٹ کی وجہ سے چاروں گھر 24 گھنٹے مفت گیس استعمال کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ پلانٹ ایک ہی سال میں اپنی پوری لاگت وصول کر لے گا۔ 

محمد رمضان کا کہنا تھا کہ اس پلانٹ نے انہیں سلینڈر لانے لے جانے کے جھنجھٹ، دکانیں بند ہونے یا ہڑتال کے خوف اور سب سے بڑھ کر سلینڈر پھٹنے کے خطرے سے مستقل نجات دلا دی ہے۔

Read Entire Article
Chatroom