لیبیا کے مرحوم چیف آف جنرل سٹاف محمد علی احمد الحداد کون ہیں؟

4 months ago 22

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

 ترکی میں سرکاری دورے کے دوران فوجی تعاون پر گفتگو کے بعد واپسی پر طیارے کے حادثے میں جان سے جانے والے لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف محمد علی احمد الحداد ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو متحد کرنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر جانے جاتے تھے۔

انسٹھ سالہ محمد علی احمد الحداد لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف تھے۔ انہیں2021  میں اس وقت کے وزیراعظم فیاض السراج نے تعینات کیا تھا۔

1987 میں وہ ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہوئے جبکہ 2011 میں قذافی حکومت کے خلاف لیبیا کے انقلاب میں انہوں نے حصہ لیا تھا۔

شمالی افریقی ملک 2011 میں معمر قذافی کی موت کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہے۔

ایک حصے کی قیادت وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ کر رہے ہیں اور دوسرے کی کمانڈر خلیفہ حفتر۔ یہ وہ ہی فیلڈ مارشل ہیں جنہوں نے دو روز قبل پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی تھی اور روئٹرز کے مطابق جنگی سازوسامان فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

2021 میں آرمی چیف کی تقرری سے قبل محمد الحداد سینٹرل ملٹری ریجن کے کمانڈر تھے اور شہر کی سب سے بڑی فوجی بٹالین کے کمانڈر بھی رہے۔

ان کا تعلق مغربی لیبیا کے شہر مصراتہ سے تھا۔

AFP__20251223__88XW2KE__v2__HighRes__TopshotFilesLibyaTurkeyPoliticsDefenceTransport.jpg

اس تصویر میں جنرل محمد علی الحداد کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں 2 اکتوبر 2018 کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

جب سے الحداد نے چیف آف سٹاف کا عہدہ سنبھالا، وہ اپنی موت کے اعلان تک مرحوم فوجی اسٹیبلشمنٹ کو متحد کرنے کے نمایاں حامیوں میں سے ایک تھے۔

یہ بات ان کے عہدہ سنبھالنے کے تین ماہ بعد واضح ہوئی جب الحداد نے مشرقی افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرزاق الندھوری سے سرت (شمال) شہر میں ملاقات کی جسے مغربی اور مشرقی افواج کے درمیان تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا۔

مقامی طور پر، حداد نے ’5+5‘ مخلوط فوجی کمیٹی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس میں پانچ اراکین مغربی لیبیا میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرتے تھے اور پانچ خلیفہ حفتر کی قیادت میں مشرقی لیبیا کی افواج کی۔

اکتوبر 2020 میں جنیوا میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے ایک حصے کے طور پر، یہ کمیٹی برسوں سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام عسکری ادارے کو متحد کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جس کے تسلسل کی تصدیق کمیٹی کے گذشتہ اجلاسوں میں ہوئی تھی، جن میں سے آخری ایک سال قبل سرت شہر میں ہوا تھا۔

ترکی کے خبر رساں ادارے انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق لیبیا کی فوجی اسٹیبلشمنٹ میں تقسیم کے باوجود الحداد نے دوسری طرف والوں کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الحداد وسیع عسکری تعلقات کے ذریعے لیبیا کی فوج کو مضبوط کرنے کے خواہاں تھے، خاص طور پر ترکی کے ساتھ، جہاں کے انہوں نے کئی سرکاری دورے کیے، جن میں اگست 2021 میں ایک دورہ بھی شامل تھا، جس میں ترکی کے بحری اور فوجی پروٹوکول مشن کے حصے کے طور پر لیبیا کے ساحل سے دور ایک ترک فریگیٹ کا دورہ بھی شامل تھا۔

2023 میں، حداد نے لیبیا کے خصوصی دستوں کو تربیت دینے کے لیے اٹلی کے ساتھ ایک فوجی معاہدے میں حصہ لیا، اور جولائی 2024 میں اس نے امریکی افریقہ کمانڈ (AFRICOM) کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں اپنے ملک کے فوجی ادارے کو متحد کرنے اور سرحدی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔

 آخری سٹاپ

حداد کی وہ چمک انقرہ سے واپسی پر ایک المناک حادثے میں متعدد ساتھیوں کے ساتھ بجھ گئی۔

الدبیبہ نے ان کی موت کو ’یہ عظیم سانحہ قوم، عسکری ادارے اور تمام لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، کیونکہ ہم نے ایسے افراد کھو دیے ہیں جنہوں نے خلوص اور لگن کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کی اور نظم و ضبط، ذمہ داری اور قومی عزم کی مثال تھے۔‘

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت نے بھی ملک بھر میں تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سربراہ عبدالحمید دبیبہ نے وزارت دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سرکاری وفد انقرہ بھیجے تاکہ اس واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔

Read Entire Article