لبنان کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے: صدر جوزف عون

2 months ago 17

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے لبنانی صدر جوزف عون نے ایک مضبوط بیان جاری کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا، اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات غداری نہیں بلکہ ایک سفارتی جنگ ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین طرفہ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

Background & Context

لبنان اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کا مسئلہ تین دہائیوں سے جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2006 کے لبنان جنگ کے بعد سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان میں انخلا کے لیے لگائے جانے والے اقدامات کا آغاز ہوا۔ تاہم اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے لیے لبنان میں ایک نئے دور کی شروعات ہوئی ہے۔ اس سے پہلے، لبنان اور اسرائیل نے تین طرفہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے لیے لبنان میں ایک نئے دور کی شروعات ہوئی ہے۔ اس سے پہلے، لبنان اور اسرائیل نے تین طرفہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ حزب اللہ کے بعد، لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔

Key Details

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل سے مذاکرات غداری نہیں بلکہ غیر ضروری خونریزی کے بغیر ایک سفارتی جنگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنان کی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، شام اور غزہ میں قائم اپنے نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ میں ’مزید اطلاع تک‘ موجود رہے گی۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے بیانات کے بعد، لبنانی صدر جوزف عون نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنان کی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، شام اور غزہ میں قائم اپنے نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ میں ’مزید اطلاع تک‘ موجود رہے گی۔

What Experts Say

لبنان کے صدر جوزف عون کی بیانیہ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان کی سرزمین کی سالمیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

حزب اللہ کے بعد، لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، شام اور غزہ میں قائم اپنے نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ میں ’مزید اطلاع تک‘ موجود رہے گی۔

Key Takeaways

  • لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے لبنانی صدر جوزف عون نے ایک مضبوط بیان جاری کیا ہے۔
  • وہ کہتے ہیں کہ لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا، اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات غداری نہیں بلکہ ایک سفارتی جنگ ہیں۔
  • یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین طرفہ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
  • حزب اللہ نے اس معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے، لیکن لبنانی صدر جوزف عون کی بیانیہ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان کی سرزمین کی سالمیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

What This Means For You

لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے لبنانی صدر جوزف

Read Entire Article
Chatroom