سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کو خبردار کیا کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین یا اہم مفادات پر حملے برداشت نہیں کریں گے۔
نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور وسائل ’ناقابلِ سمجھوتہ‘ ہیں۔
انہوں نے کہا خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک اپنی ’سرزمین، تنصیبات یا اہم مفادات‘ کو کسی بھی بہانے یا عنوان کے تحت نشانہ بنائے جانے کو مسترد کریں گے۔
تاہم شہزادہ فیصل نے خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو دوبارہ سفارت کاری کی جانب لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل لڑائی سے بحران مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے کہا ’مسلسل محاذ آرائی دیرپا تصفیے کی راہ نہیں بن سکتی۔ ترجیح کشیدگی میں کمی اور سیاسی و سفارتی کوششوں کا دروازہ کھولنے کی جانب منتقل ہونی چاہیے تاکہ ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کے ممالک کی سلامتی اور مفادات کا تحفظ کرے۔‘
ان کا یہ بیان حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ان حملوں میں ہفتے کو حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں جنوبی علاقے جازان میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
گذشتہ ہفتے عراق سے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا بحیرہ عرب کے خلیجی خطے میں سلامتی کا انحصار ریاستوں کی خودمختاری اور آزادی کے احترام، ان کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، اچھے ہمسایہ تعلقات اور تنازعات کے پرامن حل پر ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں اور جہاز رانی کو بڑھتے ہوئے خطرات نے وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دوران توانائی کے تحفظ کو مرکزی اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔
شہزادہ فیصل نے آبنائے ہرمز اور دیگر بحری گزرگاہوں سے آزادانہ آمدورفت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ جہاز رانی میں خلل کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’ان گزرگاہوں کا استحکام توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں سے براہ راست منسلک ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے ایسے اثرات مرتب ہوں گے جو خطے سے باہر تک پھیلیں گے اور عالمی منڈیوں، سپلائی چینز اور اقتصادی ترقی کو متاثر کریں گے۔‘
خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بارہا کر چکے ہیں اور آبی گزرگاہ سے گزرنے کے حوالے سے پابندیوں، فیسوں یا یک طرفہ انتظامات کو مسترد کیا ہے۔
شہزادہ فیصل نے کہا کہ دنیا کو درپیش یکے بعد دیگرے بحرانوں نے عالمی نظام کی وسیع تر کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔
ان کے مطابق ان بحرانوں کے باعث ممالک کو ’تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کے ساتھ قدم ملانے کی بین الاقوامی نظام کی صلاحیت کا ازسرنو جائزہ لینے‘ کی ضرورت ہے۔
دو روزہ برکس سربراہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے تنازع اور عالمی توانائی و تجارت پر اس کے اثرات کا معاملہ نمایاں رہا ہے۔
برکس رہنماؤں نے ہفتے کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا اور ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
شہزادہ فیصل کی برکس اجلاس کے موقعے پر علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سربراہ اجلاس کے موقعے پر شہزادہ فیصل نے مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے حوالے سے متعدد ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات میں حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، جس میں سعودی عرب کو حالیہ حوثی حملوں کا معاملہ بھی شامل تھا۔
الزیانی نے ان حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب اور اس کے ردعمل میں کیے جانے والے اقدامات کے لیے بحرین کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ہفتے کو یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں التوال گورنریٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے اور ایک مسجد، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
یہ حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی تازہ لہر کا حصہ تھا جبکہ گذشتہ ہفتے عراقی سرزمین سے کیا گیا ایک حملہ بھی سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنا چکا ہے، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی، استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ایک الگ ملاقات میں شہزادہ فیصل اور ان کے انڈین ہم منصب سبرامنیم جے شنکر نے علاقائی استحکام کے لیے مسلسل رابطہ کاری اور جاری بحرانوں کے ’سیاسی اور سفارتی حل‘ کی تلاش کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
<p>سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان 13ستمبر، 2026 کو نئی دہلی میں برکس اجلاس مین شریک ہیں (ایس پی اے)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·