غزہ میں ملبے تلے دبی کم از کم 8 ہزار لاشیں نکالنے میں عالمی مدد کی اپیل

4 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

غزہ کی پٹی میں ملبے تلے کم از کم آٹھ ہزار یا اس سے زیادہ میتیں اب بھی دبی ہوئی ہیں۔ مقامی شہری انھیں نکالنے اور زندہ بچ جانے والوں تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے بین الاقوامی مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے منگل کو بتایا کہ رواں ماہ غزہ شہر کے ملبے سے نکالی گئی میتوں میں سے تقریباً نصف خواتین اور بچوں کی تھیں۔

اجیت سنگھے کے مطابق اسرائیل کھدائی اور فرانزک کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، جس سے شناخت مشکل ہو رہی ہے اور شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

تلاش کے کام میں حائل مشکلات کے بارے میں غزہ کے ایک مقامی سکیورٹی اہلکار عارف عبدالفتاح نے کہا: ’تلاش کی کوششوں کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا رہا، جن میں وسائل کی کمی، اسرائیلی ناکہ بندی اور ایسے حادثات اور آفات سے نمٹنے میں سرکاری اداروں کی مشکلات شامل ہیں۔‘

شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے میدان میں جاری امدادی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی اور کہا: ’غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کی امدادی ٹیمیں ملبے تلے سے میتیں نکالنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ انھوں نے بہت بھاری کوششیں کی ہیں۔ غزہ میں تین سو سے زائد عمارتوں کے نیچے تقریباً آٹھ ہزار میتیں دبی ہوئی ہیں۔ امدادی کارکن بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے ساتھ مل کر ملبے تلے متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں۔ یہ کام تھکا دینے والا ہے۔ یہ معاشی، جسمانی اور ذہنی طور پر نڈھال کر دیتا ہے، خاص طور پر شہری دفاع کے امدادی کارکنوں کے لیے۔ اسی وجہ سے انھوں نے زمین پر غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔‘

اسلام میں میت کی تدفین کو ایک مقدس اجتماعی فریضہ سمجھا جاتا ہے، جسے وقار اور احتیاط کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے۔ اسی لیے غزہ کے شہری متاثرین کی میتیں نکالنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاملے کی اہمیت کے بارے میں عارف عبدالفتاح کا کہنا تھا: ’یہ غزہ کے لوگوں کی زندگی کے اہم ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ ان کے عقیدے اور اسلامی ایمان انھیں میت کی تدفین کے ذریعے اس کی عزت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘

محمود بصل نے بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہوئے کہا: ’میت کی تدفین بہت اہم معاملہ ہے اور یہ یقیناً ہمارے دینی اقدار میں شامل ہے۔‘

غزہ کے شہری اسرائیل سے جنگ اور تباہی روکنے اور علاقے میں امداد داخل ہونے دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ عالمی برادری اور متعلقہ ادارے ملبے تلے دبے متاثرین کو نکالنے میں مدد کریں گے۔

بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کی وجہ بتاتے ہوئے محمود بصل نے کہا: ’عالمی برادری اور متعلقہ اداروں کی معاونت نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے شواہد محفوظ رکھنے اور شناخت کی تصدیق میں مدد ملتی ہے۔‘

پناہ گزین کیمپ کے نمائندے طارق غانم نے جنگ کے خاتمے اور واپسی کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ اور تباہی ختم ہو، اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے نکل جائے اور سرحدی گزرگاہیں کھول دی جائیں تاکہ امداد اور تعمیراتی سامان اندر آ سکے۔ اس طرح ہم اپنے گھر دوبارہ بنا سکیں گے، اپنے وطن لوٹ سکیں گے اور اس سرزمین پر وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔‘

اندازوں کے مطابق موجودہ رفتار سے ملبے تلے دبی میتوں کو نکالنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

غزہ شہری دفاع کے ترجمان نے ملبے تلے دبی میتیں نکالنے اور زندہ بچ جانے والوں تک امداد پہنچانے کے لیے عالمی برادری سے تعاون مانگا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں ماہ غزہ شہر کے ملبے سے نکالی گئی میتوں میں تقریباً نصف خواتین اور بچے تھے۔
اتوار, ستمبر 20, 2026 - 17:45
Main image: 

<p>ایک فلسطینی بچہ دو اگست 2026 کو غزہ کی پٹی کے شمال میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
غزہ میں ملبے تلے دبی کم از کم 8 ہزار لاشیں نکالنے میں عالمی مدد کی اپیل
Read Entire Article
Chatroom