عمران خان کی بہن عظمٰی خانم نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود، حکومت نے ان کے نجی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو ان کے انتظار میں چھوڑ دیا تھا اور ان کی بجائے عمران خان کو اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں لے جایا گیا۔ یہ راتوں رات کی ایک منتقلی تھی، جس نے عمران خان کی جیل میں قید کے عرصے کے دوران ایک اور پیچیدہ معاملے کو جنم دیا ہے۔
Background & Context
پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہرین کے ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ اور علاج کیا جا سکے، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شامل ہوں۔ تاہم، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے شفا کی بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جس کی وجہ انہوں نے شفا کے اطراف سکیورٹی خدشات کو قرار دیا۔
عمران خان کی جیل میں قید کے عرصے کے دوران، ان کے نجی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے مختلف بار کہا ہے کہ ان کے پاس ان کے معائنے کے لیے کافی مواد موجود ہے، لیکن حکومت نے ان کے لیے مناسب معائنے کا موقع نہیں دیا۔ یہ ایک اور پیچیدہ معاملہ ہے، جس میں حکومت کے وعدوں کے خلاف عمران خان کی بہن اور ان کے نجی معالج کی جانب سے بھرپور ردعمل آ گیا ہے۔
Key Details
عظمٰی خانم نے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ عمران خان کو کہاں لایا گیا ہے تو انہوں نے حکام سے سوال کیا۔ عظمٰی خانم نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’میں نے کہا، انہیں یہاں کون لایا؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل لے جایا جائے۔‘
عظمٰی خانم کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا، ایک انجیکشن لگایا اور ایک اور ٹیسٹ کیا جس سے معلوم ہوا کہ معمولی خون رساؤ (ہیمریج) اب بھی موجود ہے۔ عمران خان اس سے پہلے بھی اپنی دائیں آنکھ میں ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کے علاج کے لیے پمز میں زیر علاج رہ چکے ہیں، جو بصارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
What Experts Say
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پولیس انہیں ایک علیحدہ گاڑی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے گئی، جہاں وہ تقریباً تین گھنٹے تک عمران خان کے پہنچنے کے انتظار میں رہے۔ فیصل سلطان نے صحافیوں کو بتایا، جب صبح کے تقریباً 4:15 سے 4:30 بج رہے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا ’ڈاکٹر، لگتا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے، اور شاید واپس جا چکے ہیں۔ آپ بھی واپس چلے جائیں۔‘
Key Takeaways
- سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود، حکومت نے عمران خان کو پمز میں لے جایا۔
- عمران خان کی بہن اور ان کے نجی معالج نے حکومت کے وعدوں کے خلاف بھرپور ردعمل دیا ہے۔
- پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا، ایک انجیکشن لگایا اور ایک اور ٹیسٹ کیا۔
- عمران خان اس سے پہلے بھی اپنی دائیں آنکھ میں ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کے علاج کے لیے پمز میں زیر علاج رہ چکے ہیں۔
What This Means For You
عمران خان کی جیل میں قید کے عرصے کے دوران، ان کے نجی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے مختلف بار کہا ہے کہ ان کے پاس ان کے معائنے کے لیے کافی مواد موجود ہے، لیکن حکومت نے ان کے لیے مناسب معائنے کا موقع نہیں دیا۔ یہ ایک اور پیچیدہ معاملہ ہے، جس میں حکومت کے وعدوں کے خلاف عمران خان کی بہن اور ان کے نجی معالج کی جانب سے بھرپور ردعمل آ گیا ہے۔
عمران خان کی بہن اور ان کے نجی معالج کی جانب سے حکومت کے وعدوں کے خلاف بھرپور ردعمل کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے وعدوں کا کبھی بھی معیار نہیں ہے، اور حکومت ان کے معائنے کے لیے مناسب موقع نہیں دیتی۔
یہ ایک اور پیچیدہ معاملہ ہے، جس میں حکومت کے وعدوں کے خلاف عمران خان کی بہن اور ان کے نجی معالج کی جانب سے بھرپور ردعمل آ گیا ہے۔
.png)
3 weeks ago
15




English (US) ·