طورخم بارڈر نہ کھولا گیا تو پارلیمان کے سامنے احتجاج کریں گے: کلیئرنگ ایجنٹس

2 months ago 11

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

تجار و کاروباریوں کے احتجاج سے اسلام آباد کا سڑک رستہ ہو سکتا ہے

Background & Context

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے لیے اہم گزرگاہ طورخم سرحد اکتوبر 2025 سے بند ہے، جس سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے تاجروں اور مقامی معیشت کو بہت سارے نقصان پہنچا ہے۔

صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ وہ سرحد کی بندش کے حق میں نہیں، لیکن یہ وفاقی معاملہ ہے۔

Key Details

آل طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان۔افغان بارڈر کے نمائندوں کے مطابق، تقریباً 10 سے 11 ماہ سے طورخم سرحد کی بندش نے سرحدی علاقوں کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر اور طورخم کے عوام کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سرحدی تجارت پر ہے، جہاں نہ کوئی بڑی صنعت موجود ہے اور نہ ایسا زرعی نظام جو روزگار کے بڑے مواقع فراہم کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بارڈر کی طویل بندش کے باعث ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کلیئرنگ ایجنٹس مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں اور تجارت بحال ہونے تک نہ یہ رقوم واپس آ سکتی ہیں اور نہ ہی کاروبار اپنی سابقہ حالت میں آ سکتا ہے۔

What Experts Say

آل طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان۔افغان بارڈر کے صدر مجیب شنواری نے کہا کہ آئندہ ہفتے ایسوسی ایشن کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک کے دیگر سرحدی راستوں، جن میں چمن، انگور اڈہ، پاراچنار، خرلاچی اور غلام خان بارڈرز شامل ہیں، سے وابستہ تاجروں کے تعاون سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

Key Takeaways

  • تجار و کاروباریوں کے احتجاج سے اسلام آباد کا سڑک رستہ ہو سکتا ہے
  • تجار و کاروباریوں کے مطالبے کے مطابق طورخم سرحد کو فوری طور پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے
  • صوبہ خیبر پختونخواہ کے تاجروں اور مقامی معیشت کو بہت سارے نقصان پہنچا ہے
  • تجار و کاروباریوں کے احتجاج کے لیے تاجروں کے تعاون سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا جائے گا

What This Means For You

یہ صورتحال اس وقت بھی جاری ہے جب حکومت نے کہا ہے کہ وہ سرحد کی بندش کے حق میں نہیں، لیکن یہ وفاقی معاملہ ہے۔

تجار و کاروباریوں کے احتجاج سے اسلام آباد کا سڑک رستہ ہو سکتا ہے۔

تجار و کاروباریوں کے احتجاج کے لیے تاجروں کے تعاون سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کا یہ پہلا موقع ہو گا جب تاجر و کاروباریوں کے احتجاج سے سڑک رستہ ہو سکتا ہے۔

Read Entire Article
Chatroom