صوابی کے ’تاجک ہیرو‘ کی قبر کی مٹی 90 سال بعد ماسکو سے تاجکستان واپس

3 months ago 39

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

تاجک حکومت نے 90 سال بعد ملک کے بانیوں میں شمار نثار محمد سمیت تین قومی ہیروز کی قبروں کی مٹی ماسکو سے حاصل کر کے تاجکستان میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دفن کر دی۔

نثار محمد خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں زیدہ میں 1897 میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد 1917 میں افغانستان چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے امیر امان اللہ خان کی قیادت میں تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔

افغان حکومت نے انہیں تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا تھا اور تاجکستان میں بھی انہیں افغان ہیرو کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

تاہم جب اینگلو افغان جنگ کے بعد وہ واپس صوابی چلے گئے تو انگریزوں کے خلاف لڑنے کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن وہ قید سے فرار ہوکر افغانستان کے راستے تاشقند چلے گئے اور تاجکستان کے شیرین شاہ جیسے اہم سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کی۔

اس طرح ان کا شمار موجودہ جمہوری تاجکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوا۔

کمیونسٹ نظریات رکھنے والے نثار محمد نے تاجکستان کی سیاست میں قدم رکھا اور اس وقت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

Sawabi Tajik Hero

خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)

وہ 1924 سے 1930 تک تاجکستان کے وزیر تعلیم رہے اور تاجکستان کے تعلیم اور سائنس کے شعبے میں انقلاب لائے، جبکہ وہ تاشقند کی سنٹرل ایشیا سٹیٹ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے تھے۔

نثار محمد کو تاجکستان کی آزادی کے ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے تاجک اخبارات اور رسالوں کے پیچھے نثار محمد یوسفزئی تھے، جو تاجکستان کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے تھے جبکہ تاجکستان میں پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاجکستان میں پہلا تعلیمی مرکز ’انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ 1924 میں کھولا گیا تھا، جس کے پہلے ڈائریکٹر بھی نثار محمد تھے، جبکہ تاجکستان کے پہلے سکول اور لائبریری کا قیام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔

روس میں موجود نثار محمد کی پوتی انا مالوخینا نے ان کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی فلم میں انٹرویو کے دوران بتایا کہ نثار محمد کو 11 زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ اس وقت یونیورسٹی میں طلبہ کو اردو اور پشتو کے کورسز پڑھایا کرتے تھے۔

نثار محمد کو 1937 میں سٹالن کے دور میں سوویت یونین کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور مختلف تحقیقی مقالوں کے مطابق دورانِ تفتیش تفتیشی افسر نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جنہیں ماسکو میں ایک اجتماعی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ان کی پوتی نے نثار محمد کی گرفتاری کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی کہا کرتی تھیں کہ لوگ آگئے تھے لیکن نثار محمد گھر پر موجود نہیں تھے لیکن شام کو واپس آکر ان کو گرفتار کیا گیا۔

انا نے انٹرویو میں بتایا کہ ’جب ان کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے تو وہ جن آنکھوں سے دیکھ رہے تھے تو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔‘

تاجکستان میں اب بھی وزارت تعلیم کے سامنے گزرتی ہوئی شاہراہ ان ہی کے نام سے منسوب ہے اور تاجکستان میں انہیں آزادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی قبر کی مٹی واپس تاجکستان لائی گئی۔

Read Entire Article
Chatroom