شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل سپینسر نے اپنی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ شہزادی ڈیانا کی موت کے چند گھنٹوں بعد شاہ چارلس کا رویہ ایسا تھا جیسے انہوں نے کوئی ’لاٹری جیت‘ لی ہو۔
اس تہلکہ خیز کتاب کے کچھ اقتباسات میں اس وقت کے پرنس آف ویلز پر الزام عائد کیا گیا کہ پیرس میں ان کی سابق اہلیہ (ڈیانا) کی کار حادثے میں موت کے کچھ ہی دیر بعد فون پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ’بے حد خوش و خرم‘ دکھائی دے رہے تھے۔
ارل سپینسر نے اس جوڑے کی ناخوشگوار ازدواجی زندگی کی تفصیلات بھی بیان کیں اور بتایا کہ ڈیانا 1981 میں شادی سے قبل منگنی ختم کرنا چاہتی تھیں۔
ان تفصیلات میں یہ دعوے بھی شامل ہیں کہ ویلز کی آنجہانی شہزادی کو شادی سے قبل کیمیلا کے لیے خریدا گیا ایک بریسلٹ ملا تھا، چارلس نے ایک سالگرہ کی تقریب میں ’ان میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی‘ اور ان سے کہا وہ ’کچھ زیادہ موٹی‘ لگ رہی ہیں۔
بدھ کو سامنے آنے والے ان الزامات کے بعد کہ چارلس نے مبینہ طور پر ڈیانا کی المناک موت کے چند روز بعد سپینسر سے کہا تھا کہ ’یقین رکھیں، ہم اسے جلد ہی بھول جائیں گے‘، بادشاہ جمعرات کو پہلی مرتبہ عوامی سطح پر نظر آئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ان الزامات پر بکنگھم پیلس نے سخت ردعمل دیا۔ محل نے کہا ’اگرچہ اصولی طور پر ہم کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔ تاہم بادشاہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ برادرانہ غم کا درد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دھندلا سکتا ہے، فیصلے پر اثرانداز ہو سکتا ہے اور یادداشت کو ایسے انداز میں رنگ سکتا ہے جسے دوسرے لوگ، حتیٰ کہ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی، سمجھ نہیں پاتے۔‘
تازہ الزامات کے جواب میں محل نے کہا کہ اس کے پاس مزید کچھ کہنے کو نہیں۔ میجسٹی میگزین کی چیف ایڈیٹر انگرڈ سیورڈ نے اس ردعمل کو ’بے مثال‘ اور ’بہت، بہت غیر معمولی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ بہت پریشان ہوئے اور وہ صورت حال کی وضاحت کرنا چاہتے تھے — کسی بھی چیز سے زیادہ اپنے بیٹوں کی خاطر۔‘
تاہم جمعرات کو ایڈنبرا میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے بادشاہ نے ان دعوؤں کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں ’وجودی خطرات‘ پیدا ہو سکتے ہیں۔
جمعرات کو ڈیلی میل میں شائع ہونے والے ایک اقتباس میں شاہی خاندان پر الزام عائد کیا گیا کہ ڈیانا کی آخری رسومات کے انتظام میں ’تکبر اور استحقاق کے احساس‘ کا مظاہرہ کیا گیا اور یہ بھی کہ ان کے خاندان کی جانب سے موزارٹ کی ’ریکوئیم‘ بجانے کی درخواست مسترد کر دی گئی، حالانکہ یہ ڈیانا کی خواہش تھی۔
سپینسر نے کہا کہ یہ عذر کہ چرچ آف انگلینڈ کی تقریب میں ریکوئیم بجانے کی اجازت نہیں تھی، ’کئی ایسے جھوٹ میں سے پہلا تھا جو حکام میری طرف اچھالتے رہے‘۔
چارلس نے، جو ان الزامات کے حوالے سے اُس وقت شہزادے تھے، مبینہ طور پر ڈیانا کو بھلا دیے جانے سے متعلق یہ بات اس فیصلے پر ہونے والی بحث کے دوران کہی تھی کہ اس وقت 15 اور 12 سال کے شہزادے ولیم اور ہیری اپنی والدہ کے جنازے کی تقریب میں پیدل شریک ہوں گے۔
سپینسر کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کے بعد چارلس نے مبینہ طور پر انہیں فون کیا اور غصے کے ایک ’طویل سلسلے‘ میں کہا کہ ان کی سابق اہلیہ کو جلد ہی بھلا دیا جائے گا۔
سپینسر اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’سوان سونگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ میں دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈیانا نہیں چاہتی ہوں گی کہ ان کے بیٹے جنازے کے جلوس میں شریک ہوں۔
کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ ’انہوں نے فون پر ڈیانا کے لیے اپنے دل میں جمع توہین اور اس بات پر اپنی شدید ناگواری، جس سے دنیا ان کی موت سے متاثر ہوئی تھی، غصے کے ساتھ مجھ پر نکالی۔
انہوں نے سرگوشی میں کہا ’یقین رکھیں، ہم انہیں جلد ہی بھول جائیں گے!‘
سپینسر نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سینٹ پالز کیتھیڈرل میں شادی سے ایک روز قبل چارلس نے ڈیانا سے کہا تھا کہ وہ ’ان سے شادی کرنے پر بہت خوش ہیں، لیکن دراصل ان سے محبت نہیں کرتے‘۔
کتاب میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ڈیانا کو کیمیلا کے لیے چارلس کی جانب سے خریدا گیا ایک بریسلٹ مل گیا تھا۔
کیمیلا سے چارلس نے بعد میں 2005 میں شادی کی۔ اس دریافت کے بعد ڈیانا اس قدر پریشان ہوئیں کہ انہوں نے منگنی ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے والد نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
یہ واقعہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن-ونڈزر کی 21ویں سالگرہ کے موقعے پر ونڈزر کاسل میں پیش آیا، جہاں چارلس پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈیانا میں ’تقریباً کوئی دلچسپی نہیں دکھائی‘۔
سپینسر کے مطابق کھانے کی خرابیوں کا سامنا کرنے والی ڈیانا کی عدم تحفظ کی کیفیت منگنی کے فوراً بعد مزید بڑھ گئی، جب چارلس نے ان کی کمر کو دبا کر کہا ’اوہ، یہاں تو کچھ موٹاپا ہے، ہے نا؟‘
ان کے بھائی نے بعد میں محل کی جانب سے ڈیانا کی دیکھ بھال ان کے معتمد ذاتی ڈاکٹر سے شاہی ڈاکٹروں کو منتقل کرنے کے فیصلے کو ’بہت بڑی غلطی‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق شہزادہ ولیم کی پیدائش کے بعد ڈیانا کا وزن کم ہونے کا سلسلہ ’پوری شدت کے ساتھ‘ دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیانا نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک بلند چٹان پر گاڑی لے جا کر خود کو روکنے سے پہلے ’سب کچھ ختم کر دینے‘ پر غور کیا تھا، لیکن ولیم اور ہیری سے ان کی محبت نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
سپینسر نے لکھا ’یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ڈیانا ایک سے زیادہ مرتبہ خود گاڑی چلا کر بیچی ہیڈ گئیں، جو انگلینڈ کی سب سے بلند چاک چٹان ہے اور وہاں وہ اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچتی رہیں۔ ان کی اپنے بیٹوں سے محبت نے انہیں اس سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔‘
ڈیلی میل کے مطابق اس کتاب میں ’شاہ چارلس کے ساتھ ڈیانا کی ناکام شادی اور 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں ان کی المناک موت کے بعد پیدا ہونے والے ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں مزید غیر معمولی دعوؤں کا ایک سلسلہ‘ بھی شامل ہوگا۔
ارل سپینسر کی کتاب میں کیے گئے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب شاہی خاندان کئی سکینڈلز اور خاندانی تنازعات سے متاثرہ ایک تکلیف دہ دور سے گزر رہا ہے، جن میں ڈیانا کے دونوں بیٹوں کے درمیان دوریاں بھی شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت بھی ہوئی ہے جب ہیری اگست میں برطانیہ واپس آنے کے بعد پہلی مرتبہ عوامی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
ڈیوک آف سسیکس، جن کے بارے میں بادشاہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ اب شاہی خاندان کے فرائض انجام دینے والے رکن نہیں، پہلی مرتبہ اس وقت منظر عام پر آئے جب انہوں نے لندن میں منعقدہ پہلے ’ان وکٹس سپرٹ ایوارڈز‘ میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اس موسم گرما میں ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن، اپنے دونوں بچوں، سات سالہ شہزادہ آرچی اور پانچ سالہ شہزادی لِلی بیٹ کے ہمراہ نارتھمپٹن شائر میں واقع ارل سپینسر کے گھر آل تھورپ ہاؤس گئے تھے۔
ڈیانا کی پرورش اسی گریڈ ون میں درج تاریخی عمارت میں ہوئی تھی، جو 500 سال سے زیادہ عرصے سے سپینسر خاندان کا گھر ہے۔ ڈیانا کو اسی عمارت کے احاطے میں دفن کیا گیا ہے۔
ولیم اور کیٹ، جو سکاٹ لینڈ میں ڈیوک اور ڈچس آف روتھےسے کے القاب بھی رکھتے ہیں، ان دنوں پہلی مرتبہ آئل آف بیوٹ کے سرکاری دورے پر ہیں۔
<p>پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا 19 اگست، 1981 کو شادی کے بعد بالمورل کاسل میں شاہی رہائش گاہ کے دورے کے دوران سکاٹ لینڈ میں دریائے ڈی کے کنارے فوٹوگرافروں کے لیے تصویر بنوا رہے ہیں (پول / اے ایف پی)<br />
</p>
.png)
2 hours ago
2



English (US) ·