سعودی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن کی بندرگاہ پر محدود فضائی کارروائی

3 months ago 15

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے منگل کو یمن کے ساحلی شہر مکلا پر ایک محدود فضائی حملے میں علیحدگی پسند فورس کے لیے  پہنچنے والی اسلحے کی کھیپ کو نشانہ بنایا۔

یہ امداد مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے یہاں پہنچی تھی۔  امارات کی طرف سے فوری پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ نے منگل کو اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے کہا ہے کہ 27 اور 28 دسمبر کو دو جہاز فجیرہ کی بندرگاہ سے مکلا کی بندرگاہ پر اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے کوئی اجازت نامہ لیے بغیر پہنچے تھے۔

میجر جنرل المالکی نے کہا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست کی بنیاد پر اتحادی افواج نے وہاں شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کیں۔ ’یہ اسلحہ امن و استحکام کے لیے خطرہ اور اشتعال انگیزی کا باعث ہے، اتحاد کی فضائیہ نے آج صبح ایک محدود عسکری کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ان ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو دو جہازوں سے بندرگاہ مکلا پر اتاری گئی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مکمل دستاویزی شواہد کے بعد، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ان کے رائج اصولوں کے مطابق اس انداز میں کی گئی کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتحادی فضائیہ نے منگل کو علی الصبح ایک محدود فوجی کارروائی کی جس میں ان لوڈ بندرگاہ پر اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ہتھیاروں کی منتقلی کے دستاویزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہونے کے بعد کی گئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ادارے نے اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل جاننے کی درخواست کی لیکن اس فوری جواب نہیں ملا۔

سوشل میڈیا پر اس متعلق ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جو بظاہر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کی مدد سے لی گئی ہے۔

Read Entire Article