سعودی عرب متاثرہ آئل آپریشن چند روز میں بحال کر سکتا ہے: آرامکو چیف

4 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کہا ہے کہ کمپنی کسی بھی متاثرہ آپریشن کو چند روز میں بحال کر سکتی ہے، جبکہ ایران جنگ کے باعث حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تیل کی برآمد کے متبادل راستے بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

امین ناصر نے عالمی جریدے ’نکئی ایشیا‘ کو بتایا کہ آرامکو اپنے تیل کے آپریشنز میں کسی بھی تعطل کو چند روز میں بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کمپنی متبادل برآمدی راستے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور برآمدی نظام کو ممکنہ حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

دوسری جانب پاکستانی حکام نے منگل کو بتایا تھا کہ سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کو خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوگئی ہے، جس سے خطے میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹ اور ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

Saudi Aramco chief says any interruption can be fixed 'within days'https://t.co/Evp4PKdtvB pic.twitter.com/Y0wHBI6MWA

— Nikkei Asia (@NikkeiAsia) September 24, 2026

سعودی عرب نے رواں ہفتے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے ذخائر سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے۔

ڈرون حملوں کے بعد 13 ستمبر کو یہ پائپ لائن بند ہوگئی تھی، جس کے باعث برآمدی ٹرمینل سے تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔

یہ راستہ سعودی خام تیل کو آبنائے ہرمز سے بچاتے ہوئے برآمد کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

 فروری میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ینبع سے پاکستان آنے والے ٹینکر بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب میں داخل ہوتے ہیں۔

پاکستان درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد اس نے ینبع کے راستے سے خام تیل کی درآمد بڑھا دی تھی۔

 صنعتی حکام کے اندازے کے مطابق بحیرہ احمر کا یہ راستہ اب پاکستان کی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ایک چوتھائی پورا کرتا ہے۔

 لڑائی کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھے اور ملک میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ اگر شدید قلت پیدا ہوئی تو پیٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے اسے پیش گوئی کے بجائے ممکنہ قلت کی صورت میں ایک ممکنہ نتیجے کے طور پر بیان کیا تھا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور برآمدی نظام کو ممکنہ حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026 - 18:15
Main image: 

<p>24 نومبر 2020 کو لی گئی اس تصویر میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیب کا منظر دیکھا جا سکتا ہے (روئٹرز)</p>

type: 
SEO Title: 
سعودی عرب متاثرہ آئل آپریشن چند روز میں بحال کر سکتا ہے: آرامکو چیف
Read Entire Article
Chatroom