رحیم یار خان: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد وصولی کے دوران 7 خواتین کی موت 

3 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ایک گاؤں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ملنے والی نقد امداد کی تقسیم کے دوران ایک چھت گرنے سے سات خواتین جان سے گئیں جبکہ 75 زخمی ہو گئیں۔

ترجمان ڈسٹرکٹ آفیسر رحیم یار خان محمد عتیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’رحیم یار خان کے چک نمبر 123 پی میں 16 مارچ کو رجسٹرڈ ڈیوائس ہولڈر بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت حسب معمول امدادی رقوم تقسیم کر رہے تھے۔ انہوں نے رقوم دکان کے اوپر چوبارے میں دینے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ اسی دوران نچلی دوکان کی ٹی آئرن گارڈر کی کمزور چھت سینکڑوں خواتین کے وزن کی وجہ سے گر گئی اور وہاں موجود بڑی تعداد میں خواتین مبلے تلے دب گئیں۔ 

ترجمان نے بتایا کہ ’اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اس حادثہ میں کل سات خواتین کی موت ہوئی جبکہ 75 زخمی ہیں۔ انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت  2008- 2013 کے دوران ملک میں مستحق خواتین کی مالی معاونت کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت ایک کروڑ خواتین کو ہر تین ماہ بعد 14 ہزار روپے امدادی رقم کے طور دیے جاتے ہیں۔ یہ امدادی رقوم ملک بھر میں مخصوص ڈیوائسز ہولڈرز کے ذریعے آن لائن بھجوائی جاتی ہیں اور وصولی کے لیے رجسٹرڈ خواتین موبائل فون پر پیغام موصول ہونے ہی متعلقہ پوائنٹ پر پہنچتی ہیں۔

WhatsApp Image 2026-03-16 at 6.03.07 PM.jpeg

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’آج بروز پیر صبح رحیم یار خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نجی بینک کے ادائیگی مرکز پر، دیگر خواتین کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام  کی مستحق خواتین بھی موجود تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مذکورہ دکان کی چھت گرنے کے باعث اب تک 6 خواتین جاں بحق جبکہ متعدد خواتین زخمی ہو گئی ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایت پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد فوری طور پر رحیم یار خان پہنچیں اورمتاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔  ہیڈکوارٹرز سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی فوری طور پر رحیم یار خان روانہ ہو چکی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات اور  ذمہ داران کا تعین کر کے 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔‘ 

بی آئی ایس پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں ممکنہ غفلت کے پیشِ نظر متعلقہ پارٹنر بینک کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بی آئی ایس پی کی جانب سے ہر جاں بحق ہونے والی خاتون کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے جبکہ زخمی خاتون کے لیے 3 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی اور یہ ادائیگیاں کل تک مکمل کر دی جائیں گی۔ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور متعلقہ پارٹنر بینک کے نمائندگان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔‘

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ کمشنر سمیت ضلعی افسران کو موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں تیز کرنے زخمیوں کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

WhatsApp Image 2026-03-16 at 6.03.06 PM (1).jpeg

ترجمان محمد عتیق کے بقول، ’رقوم کی تقسیم کے لیے ڈیوائس ہولڈرز بی ایس پی انتظامیہ خود رجستڑڈ کرتی ہے۔ اس میں ضلعی انتظامیہ کو نہ اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ چند سال پہلے تک بی آئی ایس پی نے یہ رقوم تقسیم کرنے کے لیے رجسٹریشن ضلعی انتطامیہ کے این او سی سے مشروط کی ہوئی تھی۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ انتظامیہ ان ڈیوائس ہولڈرز کو ایسی جگہ فراہم کرتے تھے جہاں ان خواتین کے لیے محفوظ انتظام کیا جائے۔ سرکاری سکولوں یا قریبی سرکاری کسی دفتر میں یہ امداد احسن طریقے سے تقسیم ہوجاتی تھی۔ لیکن اب ہمیں یہ بھی معلومات نہیں دی جاتی کہ کسی ضلع میں کون ڈیوائس ہولڈر ہے اور کتنے ہیں وہ کہاں اور کیسے امداد تقسیم کرتے ہیں۔‘

Read Entire Article