ذیابیطس کا عالمی دن: دنیا میں مریضوں کی تعداد میں پاکستان تیسرے نمبر پر

5 months ago 23

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان سمیت آج دنیا بھر میں ذیابیطس کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن انسولین کے موجد، فریڈرک بینٹنگ کے یوم پیدائش کے موقعے پر 14 نومبر کو منایا جاتا ہے اور اس کو منانے کا مقصد شوگر کے مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانا اور اس مرض کی پیچیدگیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ 

طبی ماہرین کے نزدیک ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہ موٹاپا، زیادہ چکنائی والا کھانا اور روزانہ کی بنیاد پر ہلکی پھلکی ورزش یا چہل قدمی سے گریز ہے۔ اس کے علاوہ میٹھے کا زیادہ استعمال بھی اس کی مرض کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

ذیابیطس  سے متاثر افراد کے پاؤں میں چوٹ کی پیچیدگی کے علاج کے کراچی میں سرکاری ادارے فٹ اینڈ وونڈ سینٹر کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق چین اور انڈیا کے بعد پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے اور اس وقت پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

2.jpeg

 فٹ اینڈ وونڈ سینٹر کراچی میں میں علاج کے لیے آنے والے شوگر کے مریض  (امر گرڑو / انڈپینڈنٹ اردو)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحانہ رشید نے کہا ذیابیطس ایک خاموش مرض ہے۔ کسی فرد کو ذیابیطس ہونے کے بعد مرض کی تشخیص ہونے میں تاخیر کے باعث انتہائی نوعیت کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔

بقول ڈاکٹر فرحانہ رشید: ’پاکستان میں اس وقت 26 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس سے متاثر ہے مگر زیادہ تر مریضوں میں اس کی تشخیص ہی نہیں ہو سکی۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ بالغ افراد سال میں کم از کم ایک بار اپنی مکمل سکریننگ کرائیں تاکہ ذیابیطس کی بروقت تشخیص ہوسکے۔‘

ڈاکٹر فرحانہ رشید کا کہنا ہے ذیابیطس کے باعث خون کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں۔ چوٹ لگنے اور زخم کی صورت میں انتہائی پیچیدگی کے باعث ہاتھ یا پاؤں کا متاثرہ حصے کا رنگ سبز ہو جاتا ہے اور آخر کار ہاتھ یا پاؤں کو کاٹنا پڑتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر فرحانہ رشید نے بتایا کہ ’فٹ اینڈ وونڈ سینٹر میں عام طور انتہائی خراب زخم والے لوگ آتے ہیں، جہاں ان کا خصوصی علاج شروع کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے خاص ادویات پر ان کی شوگر کنٹرول کرنے کے بعد زخم کو ٹھیک کیا جاتا ہے۔

’اس مرکز میں تمام علاج مکمل طور پر مفت کیا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کو اگر چوٹ لگے اور زخم ٹھیک نہ ہو اور جلد سیاہ ہونا شروع ہوجائے تو فوری طور پر اپنا علاج کرائیں تاکہ زخم اتنا پیچیدہ نہ ہو کی پورا پاؤں یا ہاتھ کاٹنا پڑے۔‘

ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق باقائدہ سکریننگ کے ساتھ روزانہ چہل قدمی، خوراک میں احتیاط، پروسیسڈ فوڈ کے استعمال کو ترک کر کے اور گھر کا کھانا سے صحت مند زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

Read Entire Article