’حوصلے پست ترین‘: ایران جنگ میں تعینات امریکی فوجی خوراک کی قلت کا شکار

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایران جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کچھ کو اپنے قلیل کھانے کی راشننگ کرنی پڑ رہی ہے اور طویل بھوک برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ صورت حال ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

ان حالات سے پریشان ہو کر، خاندان کے افراد نے اپنے پیاروں کی غذائیت کے لیے کیئر پیکجز بھیجنے پر کافی رقم خرچ کی ہے، لیکن علاقے میں یو ایس پوسٹل سروس کی ترسیل معطل کر دی گئی ہے، جس سے گھر کے پکے ہوئے کھانوں اور پروٹین بارز سے بھرے ڈبے پھنس کر رہ گئے ہیں۔

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یو ایس ایس ٹریپولی پر سوار ایک نیوی سیلر نے گذشتہ ماہ اپنی ماں کو پیغام بھیجا کہ ’سامان بہت کم ہونے والا ہے، حوصلے بہت پست ہو جائیں گے۔‘

فی الوقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں، جن میں ہزاروں میرینز اور سیلرز شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے جنگی جہازوں پر سوار ہیں۔ کئی بحری جہاز فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بندرگاہ پر نہیں گئے۔

گذشتہ منگل کو امریکہ اور ایران کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد جھڑپیں رک گئیں اور دونوں فریق اب امن مذاکرات میں مصروف ہیں، جن میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تنازع ’بہت اچھی طرح چل رہا ہے‘ اور اشارہ دیا کہ یہ ’جلد ختم ہو جانا چاہیے۔‘

متعدد حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ امریکیوں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اموات ہوئی ہیں، بشمول 13 امریکی فوجیوں کے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

’وہ ہر وقت بھوکے رہتے ہیں‘

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق ڈین ایف نامی ایک 63 سالہ شخص بہت پریشان ہو گئے جب ان کی بیٹی، جو یو ایس ایس ٹریپولی پر تعینات ایک میرین ہیں، نے انہیں جہاز پر فراہم کیے گئے کھانے کی تصویر بھیجی، اس میں گوشت کا ایک چھوٹا حصہ اور ایک ٹورٹیلا تھا۔ ٹرے کا زیادہ تر حصہ خالی تھا۔

ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز  یو ایس ایس ابراہم لنکن پر لی گئی تصویر ایک اتنی ہی بے ذائقہ خوراک دکھاتی ہے، جس میں گاجروں کا ایک چھوٹا ٹکڑا، ایک ہیمبرگر اور گوشت کا ایک باریک ٹکڑا شامل تھا۔

ڈین کی بیٹی نے انہیں پیغام بھیجا کہ ان کے جہاز پر موجود فوجی خوراک کی راشننگ کر رہے ہیں، ان کے پاس کوئی تازہ پھل یا سبزیاں نہیں ہیں اور کافی مشین خراب ہو گئی ہے۔

ڈین جو ایک سابق فوجی ہیں نے میڈیا کو بتایا کہ ’ہمارے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے۔ آپ کی خوراک ختم نہیں ہونی چاہیے۔‘

uss gerald.jpg

امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ 26 فروری 2026 کو کریٹ کے جزیرے پر سوڈا بے سے روانہ ہوا (اے ایف پی)

کیرن ارسکائن ویلنٹائن، ویسٹ ورجینیا میں ایک پادری ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے پریشان تھیں جب کمیونٹی کے ایک رکن سے سنا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود ان کا بیٹا ناکافی راشن پر گزارہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کھانا بے ذائقہ ہے اور کافی نہیں ہے اور وہ ہر وقت بھوکے رہتے ہیں۔ اس سے دل ٹوٹ جاتا ہے۔‘

پینٹاگون کے ترجمان نے دی انڈیپنڈنٹ سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

جنرل ڈین کین، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے رواں مہینے کے شروع میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ میں شمولیت کرنے والے امریکی فوجیوں نے ’60 لاکھ سے زیادہ کھانے، نو لاکھ 50 ہزار گیلن سے زیادہ کافی، اور 20 لاکھ سے زیادہ انرجی ڈرنکس‘ استعمال کیے ہیں۔

کین نے مزید کہا کہ فوجیوں نے نکوٹین کی بھی بہت زیادہ مقدار استعمال کی ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ ہے۔‘

ڈاک کی ترسیل معطل

فوجیوں کے قلیل راشن میں اضافے کی کوشش میں، خاندان کے افراد نے گھر کے کھانوں سے بھرے ڈبے بشمول گرل سکاؤٹ کوکیز، گھر میں بنائی گئی فج، کائنڈ بارز اور نئے موزے انہیں مشرق وسطیٰ بھیجنے کی کوشش کی۔

ویسٹ ورجینیا کی ایک کمیونٹی نے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر سوار ایک سیلر کو 22 ڈبے بھیجے۔ ٹیکساس کی ایک خاتون نے کہا کہ ان کے خاندان نے اپنے بیٹے کے لیے پیکجز پر دو ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر بھی یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق ان میں سے کوئی بھی کھیپ نہیں پہنچائی گئی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے علاقے میں فوجی زپ کوڈز پر ڈاک کی ترسیل کی خدمات غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔

ایک فوجی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ وقفہ، جو ’مزید اطلاع تک نافذ ہے، جاری تنازعے سے فضائی راستوں کی بندش اور دیگر لاجسٹک اثرات کی وجہ سے ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ڈاک سروس کی بحالی سول حکام کی جانب سے فضائی راستوں کے دوبارہ کھولنے اور علاقائی کمانڈر کی علاقائی نقل و حرکت اور ڈاک فراہمی کے مستحکم حالات پر منحصر ہے۔‘

ایک پوسٹل سروس مورخ سٹیو کوچرسپرگر نے کہا کہ اس قسم کے جنگی وقت کے لاجسٹک مسائل غیر معمولی نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’امریکہ کی انقلابی جنگ کے بعد سے امریکہ کے ہر تنازعے میں ڈاک سروس میں رکاوٹیں اور تاخیر رہی ہیں۔ مواصلات اور سپلائی نیٹ ورکس جو امن کے وقت اچھی طرح کام کرتے ہیں، جنگ کے وقت ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں۔‘

تاہم کچھ پریشان خاندانوں کے افراد اب بھی اپنے پیکجز رکھے ہوئے ہیں جب انہیں بتایا گیا کہ وہ نہیں بھیجے جا سکتے۔

میری لینڈ ی رہائشی ڈان پینروڈ نے کہا کہ انہوں نے تقریباً دو ہفتے پہلے بحرین میں تعینات اپنے بھتیجے کو ایک پیکج بھیجنے کی کوشش کی، لیکن ایک ڈاک ورکر نے انہیں بتایا کہ وہ جس پتے پر بھیجا گیا تھا وہاں ترسیل نہیں کر سکتے تو وہ چلی گئیں اور اپنا پیکج اپنے ساتھ لے گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میرے لیونگ روم میں پڑا انتظار کر رہا ہے۔‘

Read Entire Article