جنگ بندی کی ڈیڈلائن قریب: اسلام آباد میں سفارت کاری کا امتحان

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

اسلام آباد میں منگل کو امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے مذاکراتی دور کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دو ہفتوں کی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب ہے اور سفارتی مبصرین کے مطابق یہ دور غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے سابق سفارت کاروں سے بات کی اور ان سے ممکنہ بہترین اور بدترین نتائج کے بارے میں سوال کیا۔

عمان میں پاکستان کے سابق سفیر عمران علی نے اس حوالے سے کہا کہ ’پہلی اور بہترین بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی معاہدہ ہو جائے یا کم از کم ایسا اتفاق ہو جائے جس سے آگے بات بڑھ سکے۔ اگر فوری مکمل معاہدہ نہ بھی ہو تو کم از کم نیت اور ارادے کا اعلان ہو جائے کہ مسائل حل ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی حل کیے جائیں گے۔ سب سے خراب صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بات چیت ہی نہ ہو اور دوبارہ جنگ شروع ہو جائے۔

’درمیانی صورت حال یہ ہے کہ فریقین آئیں، بات کریں، لیکن کوئی واضح فیصلہ نہ ہو اور صرف یہ طے کریں کہ دوبارہ ملاقات کریں گے۔‘

پاکستان کے لیے اس کے اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا: ’اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے بہتر ہو گا۔ کچھ معاملات اگر تکنیکی سطح پر یا ماہرین کی کمیٹیوں کے حوالے کر دیے جائیں تو وہ بعد میں حل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر بڑی سطح پر دو تین اہم نکات پر اتفاق ہو جائے تو اسلام آباد مذاکرات کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سفیر عمران علی کا کہنا تھا: ’اس کے لیے ضروری ہے کہ امن کم از کم چھ ماہ تک قائم رہے۔ شروع میں فوری بڑی تبدیلی نظر نہیں آئے گی لیکن آہستہ آہستہ بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم ہوں اور مسلسل دباؤ ختم کیا جائے۔‘

موجودہ ماحول اور مذاکرات کے امکانات سے متعلق انہوں نے کہا: ’فی الحال ماحول کشیدہ ہے اور بات چیت مشکل ہے لیکن امید ہے کہ کچھ مشکلات کے باوجود مذاکرات ہوں گے۔‘

تاہم مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ صورت حال سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا: ’ایسی صورت میں امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی ہو سکتی ہے اور ایران اس کا جواب دے گا۔ ایران خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے اور عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ دوبارہ غیر مستحکم اور پرتشدد ہو جائے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے عمران علی نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھے گا۔ خلیجی ممالک، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔ لبنان کی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی بہت خراب ہے۔ آخرکار سب کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا لیکن اس وقت تک بہت نقصان ہو چکا ہو گا۔‘

دوسری جانب ایران اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی سے جب مذاکرات کی کامیابی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اگر امن قائم ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔ زیر التوا مسائل حل ہو سکیں گے۔ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی اور معاشی سرگرمیاں بہتر ہوں گی۔ خطے میں کشیدگی کم ہو جائے گی۔‘

مذاکرات کی ناکامی کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے آصف درانی نے کہا: ’اگر یہ ناکام ہو جاتا ہے تو صورت حال بہت خراب ہو سکتی ہے۔ پہلے ہی بہت جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے عراق میں ہزاروں اہداف پر حملے کیے، جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔‘

انہوں نے ایران کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کا انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل اور گیس کا شعبہ، کافی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ بے گھر افراد کا مسئلہ بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

علاقائی حکمت عملی اور تناؤ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا: ’ایران نے کچھ نئی حکمت عملی اور صلاحیتیں حاصل کی ہیں، جو مستقبل میں اس کے لیے ایک طاقت بن سکتی ہیں اور یہ دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔‘

آبنائے ہرمز کے کردار سے متعلق سوال پر آصف درانی نے کہا: ’ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک سٹریٹجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اسے تنازع کا مرکزی نکتہ بنا دیا ہے اور یہی مسئلہ اب مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اصل امتحان بن گیا ہے۔‘

خطے میں کشیدگی کے تسلسل سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع ختم نہ ہوا تو ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی جاری رہے گی۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے اب فائدے کے بجائے خطرہ بن گئے ہیں کیونکہ وہ حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

مذاکرات کی کامیابی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے آصف درانی نے کہا: ’یہ کہنا مشکل ہے۔ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ اہم مسائل پر کتنی پیش رفت ہوتی ہے۔‘

’سب سے اہم امتحان یہ ہو گا کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اگر جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوتی تو مذاکرات مشکل ہو جائیں گے۔ اس وقت یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالات غیر یقینی ہیں، اس لیے دعا ہے کہ بہتری کی طرف جائیں۔‘

اسلام آباد میں ہونے والا یہ مذاکراتی دور ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی پیش رفت کی امید بھی موجود ہے اور ناکامی کی صورت میں خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ بھی برقرار ہے۔

Read Entire Article