پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر ونگ نے کہا ہے کہ افغان میڈیا میں نشر ہونے والی وہ خبر فیک نیوز ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستانی فوج نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں میزائل یا فضائی حملے کیے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے وزارت خارجہ پاکستان سے اس بارے میں آفیشل بیان کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ فیکٹ چیک ٹویٹ فارورڈ کیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ طلوع نیوز کی جانب سے 27 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی حملوں کی خبر جس میں ’سید جمال الدین افغان یونیورسٹی‘ اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، اور جس کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئےاور 45 زخمی ہوئے، ’سراسر جھوٹ ہے۔‘
![]()
وزارت کے مطابق یہ بات ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ ہے اور اس کا مقصد افغان طالبان کی جانب سے شدت پسند گروہوں، خصوصاً فتنہ الخوارج، کی مبینہ حمایت کو چھپانا ہے۔
فیکٹ چیکر ونگ نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر اور انتہائی درستگی پر مبنی ہوتی ہیں، اور مذکورہ یونیورسٹی پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں بتایا گیا کہ ’یہ ایک پرانا طریقہ کار ہے جس کے تحت بعض افغان میڈیا ادارے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کو چھپانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں انڈین میڈیا بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔‘
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔‘
دوسری جانب باجوڑ پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے توپوں کی فائرنگ سے تقریباً دو گولے تھانہ لؤی ماموند کے علاقے لعڑی میں آ گرے تاہم تاحال کسی جانی و مالی نقصان کے اطلاع نہیں ملی۔
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·