جلاوطن افغان خواتین فٹ بال ٹیم عالمی مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہے: فیفا

3 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

فٹبال کے کھیل کی نگران عالمی تنظیم فیفا نے افغانستان کی پناہ گزینوں کی خواتین فٹ بال ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔

عالمی گورننگ باڈی فیفا نے بدھ کو قواعد میں تبدیلی کی منظوری دی جس کے تحت افغان خواتین کی ٹیم باضابطہ طور پر بین الاقوامی میچ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔

یہ فیصلہ گذشتہ سال فیفا کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس ٹیم افغان ویمن یونائیٹڈ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم اپنے وطن سے باہر رہنے والی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

افغان خواتین فٹ بال ٹیم کی گول کیپر فاطمہ یوسفی، جو اب بہت سی دیگر جلاوطن کھلاڑیوں کے ساتھ ملبرن میں مقیم ہیں، نے کہا کہ جب کھلاڑیوں نے یہ خبر سنی تو وہ جذبات سے مغلوب ہو گئیں۔

24 سالہ کھلاڑی نے ایک ویڈیو کال میں بتایا کہ ’سو فیصد جذباتی۔ خوشی کے آنسو۔ کیوں کہ ہم نے اپنے دل میں افغانستان کی نمائندگی کرنا کبھی نہیں چھوڑا۔

’اور اب دنیا بالآخر اسے تسلیم کر رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بہت سی لڑکیوں کو اب بھی یہ موقع حاصل نہیں ہے۔ اس لیے یہ لمحہ ان کے لیے بھی ہے۔‘

طالبان کے قبضے سے قبل، افغانستان میں 25 خواتین کھلاڑی کنٹریکٹ پر تھیں، جن میں سے زیادہ تر اب آسٹریلیا میں رہتی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان ویمن یونائیٹڈ فی الحال سلیکشن کے عمل سے گزر رہی ہے اور فیفا انگلینڈ اور آسٹریلیا میں علاقائی سلیکشن کیمپس کا انعقاد کر رہا ہے۔

اگرچہ افغانستان اگلے سال برازیل میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا اہل نہیں ہو گا لیکن وہ اب بھی 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے کوالیفائرز میں حصہ لے سکتا ہے۔

فاطمہ یوسفی، جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ساؤتھ ملبرن ایف سی کے لیے کھیلتی ہیں، نے کہا کہ ’آنے والے ان تمام (مواقع) کے بارے میں سوچ کر (وہ) ایونٹس ٹیم کے لیے سب سے بڑی بات ہوں گے، جو ہو سکتی ہے۔

’لہذا امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

Read Entire Article