جذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقوی

3 weeks ago 7

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عہدہ رہے نہ رہے نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، صوبہ اسلام آباد کا سب سے بڑا حامی ہوں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی۔ لاہور میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ کے عنوان سے جاری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79سال بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، ہم نے اپنے ملک کے نظام کو دیکھنا ہے اور ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کا اصل مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی مختلف تشریحات کی گئیں، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ حکومت سے جوڑا، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ سیاسی بندوبست سے تعبیر کیا لیکن نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی طرف اشارہ نہیں تھی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے نظام کا جائزہ لینا ہوگا، ہمارا مقصد حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو تبدیل کرنا نہیں، ہمارا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے، 79 سال میں بہت سے منصوبے بنے لیکن عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے، تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی بنیادی سہولیات ہر شہری کو ملنی چاہئیں، نظام میں بہتری اور بہتر ڈیلیوری سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے کوئی بجٹ نہیں ملتا،سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کر سسٹم چلاتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ، کے پی کے میں پشاور ، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے؟ میرے خیال سے جو مئیر ہوتا ہے، وہ عام آدمی کے مسائل زیادہ بہتر جانتا ہے، میں اب اس سے پیچھے نہیں ہٹنے والا، نئے مئیر تو آئیں گے، اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی یہی چاہتی ہے تو پھر اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ری سیٹ یا نظام سے متعلق بیان میں میرا اشارہ نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا نہ ہی کسی سیاسی بندوبست کی طرف میں نے اس نظام کے ری سیٹ کی بات کی جو 79 سے چل رہا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ 5ویں کلاس کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا  یہ ہمارے ایجوکیشن کا حال ہے، میں اس نوکری پر رہوں یا نا رہوں، میں اس چیز سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،چاہے جو بھی نتیجہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کا کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنیں تو وہ ہر صورت بننے چاہییں، لیکن اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ یونٹس نہیں بننے چاہییں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب عوام چاہیں گے، آپ کی رائے کی اہمیت نہیں، عوام کی رائے کی اہمیت ہے۔ اگر اس معاملے میں عوام کی مرضی ہے تو اسے ہونے دینا چاہیے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ سے متعلق آجکل بہت جذباتی تقاریر ہورہی ہیں، پلیز اس پر جذباتی نہ ہوں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو کل پرسوں ہونے جارہی ہے،یہ صرف اس صورت میں ہوگی اگر عوام چاہے گی،اس میں آپ کی رائے میٹر نہیں کرتی عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے،سارے ریلیکس رہیں۔ #Live: Interior Minister @MohsinnaqviC42 is addressing National Policy Dialogue in Lahorehttps://t.co/jNLi4uTThi — Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 5, 2026  
Read Entire Article
Chatroom