اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے ہفتے کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل میں ہفتے کو اس کیس کی سماعت کی اور سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو 10،10 سال ایک دفعہ اور سات، سات سال ایک دفعہ کے لیے سزا سنائی، اس طرح مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال کی قید سنائی گئی۔
عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس سات گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف کو خلافِ قانون پاس رکھنے اور بیچنے کے الزام پر مبنی ہے۔
اس کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھیں اور بعدازاں نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو منتقل کر دیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ پر گذشتہ برس 12 دسمبر کو اس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، جس کے بعد کیس کا ٹرائل ہوا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
توشہ خانہ ٹو کیس کیا ہے؟
توشہ خانہ کے معاملے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اب تک تین جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف دو ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں۔
نیب نے توشہ خانہ ریفرنس ون میں ٹرائل کے بعد عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف نیا توشہ خانہ ریفرنس رواں برس جولائی میں دائر کیا تھا، جو سات مہنگی گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلافِ قانون اپنے پاس رکھنے اور فروخت کرنے سے متعلق ہے۔
نیب ریفرنس کے مطابق یہ نیا کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور فروخت کرنے سے متعلق ہے اور گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ اس کیس کا حصہ ہیں۔
یہ ریفرنس دراصل نیب انکوائری رپورٹ ہے جس میں احتساب کے ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ’دس قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھے اور فروخت کیے۔‘
قانون کے مطابق ہر سرکاری تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازم ہے جبکہ صرف 30 ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
.png)
4 months ago
17



English (US) ·