پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی سکیورٹی کی منصوبہ بندی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، جس میں سٹریٹجک تیل کے ذخائر قائم کرنا اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کو تیز کرنا شامل ہے۔
حکومت کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث خطے میں ایندھن کی فراہمی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، جو عالمی توانائی کا ایک اہم مرکز ہے، نے تیل اور گیس کی منڈیوں میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرنے والے پاکستان جیسے ممالک تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کے جھٹکوں کے لیے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
مستحکم توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا اب معاشی استحکام برقرار رکھنے، مہنگائی پر قابو پانے اور بجلی کی قلت سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہو گیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’انرجی سکیورٹی اب ملک کی مجموعی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔‘
اجلاس میں حکام نے موجودہ علاقائی صورت حال کے تناظر میں ملک کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بروقت اقدامات اور توانائی کے بچاؤ کی کوششوں کی بدولت اب تک بدلتی صورت حال کے باوجود توانائی بحران پیدا ہونے سے روکا گیا ہے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے، تاکہ بیرونی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بتدریج ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔

چار مارچ، 2026 کو پیرس میں میرین ٹریفک ویب سائٹ سے حاصل کی ہوئی اس تصویر میں آبنائے ہرمز میں تجارتی کشتیوں کی نقل و ظاہر ہو رہی ہے (اے ایف پی)
انہوں نے ہدایت دی کہ آئندہ سرکاری استعمال کے لیے صرف الیکٹرک بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں اور ملک بھر میں ای وی چارجنگ سٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹریوں کے حصول کو آسان بنانے کا ایک فریم ورک تیار کیا جائے۔
انہوں نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے اعلیٰ معیار کی سٹوریج بیٹریوں کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ہنگامی حالات میں رابطہ کاری کے لیے قائم کی گئی نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل روزانہ کی بنیاد پر توانائی کی صورت حال کی نگرانی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے پاس پیٹرولیم کے کافی ذخائر موجود ہیں اور مجموعی طور پر خوراک کی سکیورٹی کی صورت حال بھی مستحکم ہے۔
حکام کے مطابق تیل اور گیس کمپنیوں کی جاری کوششیں مقامی پیداوار میں اضافے میں مدد دے رہی ہیں، جبکہ گرڈ سطح پر بیٹری سٹوریج کے دو پائلٹ منصوبے پی سی ون کے تحت تیار کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکام گھریلو سطح پر شمسی توانائی استعمال کرنے والوں کو بھی بیٹری سٹوریج سسٹمز نصب کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ اضافی توانائی کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·