’بلوچستان کے لیے امید کی تلاش‘ (Discovering Hope of Balochistan) کا نعرہ نکانے والی مائننگ کمپنی ’نیشنل ریسورسز لمیٹڈ‘ (این آر ایل) پر گذشتہ روز ہونے والے حملے میں ایک ترک شہری سمیت 10 افراد جان سے چلے گئے جبکہ کئی افراد زخمی ہیں۔
حملے کا نشانہ بننے والی اس کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
این آر ایل کی ویب سائٹ کے مطابق ’نیشنل ریسورسز لمیٹڈ‘ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی 33.33 فیصد ایکویٹی حصہ داری ہے، جس نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں اپنی ایکسپلوریشن لیز (جو اکتوبر 2023 میں دی گئی تھی) کے علاقے میں تانبے اور سونے کی معدنیات کی ایک اہم دریافت کی ہے۔
این آر ایل نے لیز پر دیئے گئے علاقے میں متعدد ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی ہے، جہاں بڑی مقدار میں قیمتی معدنیات موجود ہیں۔
ان میں سے ایک مقام جسے ’تانگ کور‘ کہا جاتا ہے، اب جدید ڈرلنگ کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔
کمپنی نے 13 ڈائمنڈ ڈرل ہولز مکمل کیے ہیں، جن کی مجموعی گہرائی 3,517 میٹر ہے جبکہ پہلے 15 ہزار میٹر گہرے چھ ہولز نے 48 سے 148 میٹر تک معدنی زونز کی تصدیق کی ہے، جہاں اوسط گریڈ 0.23 فیصد سے 0.48 فیصد، تانبا، 0.09 سے 0.14 گرام فی ٹن سونا اور 1.30 سے 6.21 گرام فی ٹن چاندی پایا گیا ہے۔
این آر ایل کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی مقامی بلوچ آبادی کو اہم سٹیک ہولڈرز سمجھتی ہے اور صاف پانی، تعلیم، صحت اور مقامی روزگار و کاروبار کے ذریعے سماجی ترقی کی حمایت کرتی ہے۔
اس وقت مقامی ملازمتوں کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ کمپنی صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے رہی ہے اور پائیداری کے اصولوں کے لیے پرعزم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
این آر ایل حکومت بلوچستان اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ مل کر مزید دو تانبے اور سونے کے ایکسپلوریشن لائسنس حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے 100 ملین ڈالر کا ایکسپلوریشن فنڈ بھی موجود ہے۔
کمپنی منصوبے میں مزید مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
این آر ایل نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کے ساتھ بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ نئے حاصل شدہ لیزز پر مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے۔
کمپنی کے مطابق ان منصوبوں سے بلوچستان کے لوگوں کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہ کان کنی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری لائیں گے۔
این آر ایل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تمام افرادی قوت پاکستان، خصوصاً بلوچستان سے بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک بڑی غیر ملکی کنسلٹنسی کمپنی کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ مکمل ایکسپلوریشن کی نگرانی کرے اور مقامی انجینیئرز کو تربیت دے تاکہ وہ مستقبل میں خود یہ کام انجام دے سکیں۔
کان کنی کے شعبے کو سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے معیشت کی بحالی کے لیے ترجیحی شعبوں میں شامل کیا ہے اور اس کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے تاکہ مائننگ کے پورے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
.png)
2 hours ago
1



English (US) ·