برطانوی پولیس نے اتوار کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کے زیر استعمال رہنے والے ایک فضائی اڈے کے قریب رات گئے پانچ افراد کو دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لے لیا گیا۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے، جو ممکنہ دہشت گردی کی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کی ذمہ دار ہے، ایک بیان میں کہا کہ پولیس کو رات 12 بج کر 45 منٹ پر تین مشتبہ گاڑیوں کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی جو بظاہر فضائی اڈے کی جانب جا رہی تھیں۔
پانچوں افراد کو ابتدائی طور پر وِلفرڈ کے علاقے میں ’ایکسپلوزِوز ایکٹ‘ کے تحت جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔
یہ علاقہ رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے سے متصل ہے، جہاں امریکی فضائیہ کے 501ویں کامبیٹ سپورٹ وِنگ اور 420ویں ایئر بیس سکواڈرن کے ہیڈکوارٹرز ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ اڈہ برطانیہ کی ملکیت ہے، تاہم سرد جنگ کے زمانے سے جاری ایک معاہدے کے تحت اسے امریکہ چلاتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فورسز نے فیئر فورڈ اڈا انتہائی محدود حملوں کے لیے استعمال کیا۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے امریکی فوج کو ایرانی تنصیبات پر حملوں کے لیے فیئر فورڈ اڈا استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس اڈے سے پرواز کرنے والے بمبار طیاروں کو طے شدہ اصل دائرۂ کار سے باہر حملوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
پولیس نے گرفتار کیے گئے افراد کی قومیت کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔
میٹروپولیٹن پولیس کی ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر وکی ایونز نے کہا ’ہم تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور پانچوں افراد بدستور زیر حراست ہیں۔
’جیسا کہ آپ توقع کر سکتے ہیں، ہم واقعے کے حالات کو سمجھنے کے لیے اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ مشتبہ قرار دی گئی تینوں گاڑیوں کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے جبکہ فوج ان کا معائنہ کر رہی ہے۔
احتیاطی اقدام کے طور پر تقریباً 85 گھروں کے مکینوں کو بھی معائنے کے دوران دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
سکائی نیوز کی فضائی ویڈیو میں بم ناکارہ بنانے والا ایک روبوٹ تین سفید ٹرکوں کے درمیان حرکت کرتا دکھائی دیا۔
دو وینوں کے پچھلے دروازے کھلے تھے اور اندر بڑے سیاہ رنگ کا سامان بکھرا ہوئے دکھائی دیا۔
روبوٹ بظاہر تیسری گاڑی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مقامی گلوسٹر شائر پولیس نے کہا کہ صورت حال بظاہر ’قابو میں‘ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی فضائیہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی اور برطانوی اہلکار ’چوکس‘ ہیں اور اڈے پر موجود تمام افراد کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کریں گے۔
ترجمان نے کہا ’آپریشنل سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر ہم فورس کے تحفظ کے لیے کیے گئے مخصوص اقدامات پر بات نہیں کریں گے۔
’ہم مختلف عوامل کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں جو ہماری تنصیبات، اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تعین کرتے ہیں۔‘
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہوئیں جب برطانیہ کو مخالف ریاستوں کی جانب سے لاحق خطرات کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
روس اور ایران ان ممالک میں شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے برطانوی سرزمین پر اپنے مفادات کے لیے جرائم کے ارتکاب کی خاطر پراکسیز کا استعمال کیا۔
حکام نے مارچ میں بتایا تھا کہ ایران سمیت مخالف ریاستوں کی سرگرمیوں سے متعلق قومی سلامتی کے مقدمات کی تعداد دسمبر 2025 تک کے چھ ماہ میں 50 فیصد بڑھ گئی تھی۔
وزیراعظم اینڈی برنہم کے دفتر نے بتایا کہ انہیں صورت حال سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
<p>27 ستمبر، 2026 کو فیئرفورڈ میں رائل ایئرفورس کے اڈے پر مسلح پولیس اہلکار پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
3




English (US) ·