موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے برازیل کے شہر بیلم میں 10 روزہ ’کانفرنس آف دی پارٹیز‘ (کوپ30) کا آغاز آج (11 نومبر) سے ہو گیا جس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے یہ 30ویں کانفرنس ہے جو اقوام متحدہ کے زیرِ سایہ مختلف ممالک میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
رواں سال پاکستان کی جانب سے کوئی وفاقی سطح کا وفد نہیں گیا ہے لیکن پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ایک وفد اس کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا ہے۔
گذشتہ سال آذربائیجان میں ہونے والی ’کوپ29‘ کانفرنس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی حکومت کا اعلیٰ سطح کا وفد شریک ہوا تھا، جبکہ اس سے پہلے 2023 میں متحدہ عرب امارات میں اس وقت کے نگران وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے شرکت کی تھی۔
پنجاب حکومت کے وفد نے کانفرنس میں پویلین بھی سجایا ہے، جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے شروع کیے گئے اقدامات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
پنجاب کی نمائندگی ’کوپ30‘ میں موجود ہے، تاہم مبصرین کے مطابق پاکستان میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے لیکن اس صوبے کی حکومت نے کسی کو بھی کانفرنس میں بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ پہلے 10 ممالک میں شامل ہے، جس سے ملک کے تمام صوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
تاہم خیبر پختونخوا کلائمیٹ چینج پالیسی 2022 کے مطابق صوبے کے بعض علاقے قراقرم اور ہندوکش رینج میں ہونے کی وجہ سے شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پھٹنے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 2016 میں صوبے میں پہلی کلائمیٹ چینج پالیسی بنائی تھی اور اس کے بعد 2022 میں اسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کر کے نئی پالیسی جاری کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
زوفین ابراہیم پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مختلف عالمی جریدوں کے لیے مضامین لکھتی ہیں اور ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے کیونکہ ’حکمرانوں کو موسمیاتی تبدیلی تب یاد آتی ہے جب کوئی آفت آ جاتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا، ’عالمی سطح پر پاکستان کی طرف سے یہی کہا جاتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی پاکستان بہت کم ذمہ دار ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی پالیسی صرف کاغذ تک محدود ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ سندھ سے ایک وفد جا رہا ہے لیکن ان کے پاس بھی ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے ہاؤسنگ کے منصوبے کی نمائش کے علاوہ وہاں دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اتنے اہم مسئلے پر وفد کے نہ جانے کو بھی سیاسی اختلافات کا نشانہ بنایا گیا، تو اس کے جواب میں زوفین کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اگر اسی پر سیاست بھی کرتے تو تمام صوبے کچھ نہ کچھ اقدامات اٹھا کر انہیں ’کوپ30‘ میں پیش کرتے۔
زوفین نے بتایا، ’موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔‘
خیبر پختونخوا کے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات و ماحولیات وزارت کے ترجمان لطیف الرحمن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وفد ابھی گیا نہیں ہے، لیکن کل (12 نومبر) جانے کا پلان موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، محکمہ ماحولیات اور بلین ٹری سونامی کے حکام کا برازیل جانے کا منصوبہ موجود ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیرِ اطلاعات شفیع اللہ جان سے ’کوپ30‘ میں صوبائی حکومت کا وفد ابھی تک نہ بھیجنے کی وجوہات جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔
.png)
5 months ago
18



English (US) ·