بات چیت کر رہے ہیں لیکن ایران جنگ کے خاتمے کی ڈیل پر تیار نہیں: صدر ٹرمپ

6 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 15ویں روز بھی جاری ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس


16ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


صبح 9 بج کر 48 منٹ: بات چیت کر رہے ہیں لیکن بظاہر ایران جنگ ختم کرنے  کو تیار نہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، لیکن تہران جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں۔

جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے حوالے سے سوال پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘

ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوئی سفارت کاری جاری ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہاں، ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے ایسی بات چیت کی نوعیت کی تفصیل نہیں بتائی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ تیار ہیں۔ لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘

ایران کے وزیر خارجہ اس سے پہلے تردید کر چکے تھے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کرنا بھی چاہتے ہیں ’کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کس سے معاملہ کر رہے ہیں، کیوں کہ ان کی زیادہ تر قیادت ماری جا چکی ہے۔‘


صبح 9 بج کر 40 منٹ: دبئی ایئر پورٹ پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا

خبر رساں اداے روئٹرز کے مطابق دبئی حکام نے پیر کو کہا کہ شہر کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جس کے باعث پروازیں عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں، تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔

dubai airport.jpg

مسافر بردار طیارے 11 مارچ 2026 کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب کھڑے ہیں (اے ایف پی)

پیر کا یہ واقعہ دبئی ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ ہے۔ یہ دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی سفری مراکز میں سے ایک ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد 28 فروری سے ایران کی خلیجی ملکوں پر حملے شروع ہونے کے بعد سے دبئی ایئرپورٹ پر یہ تیسرا واقعہ پیش آیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔


صبح 8 سات بج کر 30 منٹ: اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل ’بہت برا‘ ہو گا: ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے اتحادی ملکوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل ’بہت برا‘ ہو گا۔

آبنائے ہرمز تیل برداری کے نہایت اہم راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے عملاً بند ہو چکا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخبار دا فنانشل ٹائمز کو اتوار کو ایک مختصر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جس طرح امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی مدد کی ہے، وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپ آبنائے ہرمز کے معاملے میں مدد کرے گا، جس کی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بہت بڑھا دی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر اس پر کوئی جواب نہ آیا، یا منفی جواب آیا، تو میرے خیال میں یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہو گا۔‘ 

ٹرمپ برسوں سے اس اتحاد پر تنقید کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کی فیاضی پر مفت فائدہ اٹھاتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ سربراہ ملاقات مؤخر ہو سکتی ہے، کیوں کہ وہ آبنائے کھلوانے کے لیے چین کی مدد پر زور دے رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ اس سے پہلے جاننا چاہیں گے۔ اور یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ ساتھ کئی یورپی ممالک بھی امریکہ کے مقابلے میں خلیج سے آنے والے تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے بقول: ’یہ بالکل مناسب ہے کہ جو لوگ آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ یہ یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔‘

ٹرمپ نے الگ سے ایئر فورس ون میں اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے مدد لینے کے سلسلے میں ’تقریبا سات‘ ممالک سے بات چیت کر رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس خاص قسم کی مدد چاہتے ہیں؟ تو ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ انہیں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں کے ساتھ ساتھ ’ایسے لوگ بھی چاہییں جو ایرانی ساحل کے ساتھ موجود کچھ شرپسند عناصر کو ختم کر سکیں۔‘

Read Entire Article