بڑھتی ہوئی دہشت گردی، شدید سیاسی عدم استحکام اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد اب بحالی امن کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر آ گئی ہے۔
خیبر پختونخوا گذشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی سے پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق پچھلے 25 سالوں میں بدامنی کے شکار اس صوبے میں دس ہزار سے زائد دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً 24,866 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کے متعدد عوامل ذہ دار ہیں، جن میں افظان طالبان کی اقتدار میں واپسی بھی شامل ہے۔ اس نے پاکستانی شدت پسندوں کو اپنے بکھرے ہوئے نیٹ ورکس کی بحالی میں مدد فراہم کی۔ اسی طرح، عدم تسلسل پر مبنی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارلیمانی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرفی کے بعد اس معاملے پر سیاست نے بھی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے، جیسے کہ تجارتی طور پر دستیاب کواڈ کاپٹرز، بھی پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کی کارروائی کی صلاحیتوں کو تقویت بخشی ہے۔ اس کے علاوہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ممکنہ اضافے کے بھی پاکستان کی پہلے سے نازک سکیورٹی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تناظر میں عسکریت پسندوں کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے 12 متاثرہ اضلاع سے دہشت گردوں کا فوری صفایا کرنا اور ان کے بنیادی ڈھانچے و تنظیمی مراکز کو تباہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بعد، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک جامع انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی ضرورت ہو گی، جو عسکری اور غیر عسکری دونوں پہلوؤں میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کرے۔
ریاست کے دہشت گردی سے نمٹنے کے سخت اقدامات ہر شخص کے ذہن میں چند بنیادی سوالات پیدا کر رہے ہیں، جن کا وضاحت کے ساتھ ادراک ضروری ہے۔ اول، ضربِ عضب، رد الفساد اور عزم استحکام جیسے کئی بڑے پیمانے کے آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا؟ دوم، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے انسداد دہشت گردی کے آپریشنز پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ سوم، کیا اس بار دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا، اور اس میں کتنا وقت لگے گا؟
آئیے باری باری ان کے جوابات کا جائزہ لیتے ہیں۔
سابق ادوار میں سکیورٹی میں اہم پیشرفت کے باوجود پاکستان میں دہشت گردی کا تسلسل ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، فریقین کو قومی سلامتی کے امور کو سیاست کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سیاسی تقسیم، انتظامی اختلافات اور عدم اعتماد صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو تقویت دیتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دہشت گردی کا تسلسل اس لیے برقرار رہا کیونکہ پاکستان کی سابق انسدادِ دہشت گردی مہمات زیادہ تر عسکری قدامات تک محدود رہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ضروری غیر عسکری اقدامات کی کمی رہی، جو سکیورٹی کے نتائج کو مستقل سیاسی فائدوں میں بدل کر امن کو پائیدار بنا سکتے۔ اسی طرح افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کی واپسی اور امریکہ کے چھوڑے ہوئے اسلحے کی پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورکس تک رسائی نے بھی دہشت گردی کے تسلسل میں اپنا کردار ادا کیا۔
مزید برآں، بحالی کے وعدوں کو پورا کرنے، انتظامی و آئینی اصلاحات متعارف کرانے اور ایک شمولیت پسند اور جوابدہ نظام حکومت قائم کرنے میں پاکستان کی ناکامی نے بھی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کو برقرار رکھا۔ آخر میں، افغانستان میں ان گروہوں کو حاصل عملی آزادی نے پاکستانی شدت پسند تنظیموں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ اسی لیے، دہشت گردی برقرار رہی اور ماضی کی انسداد دہشت گردی مہمات ایک ہی دائرے میں گھومتی رہیں۔
مستقبل میں، انسدادِ دہشت گردی کے سکیورٹی سے متعلق اقدامات کو سیاسی، سماجی، آئینی، اقتصادی اور بیانیاتی اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ فریقین کے لیے یہ ہی بہتر ہوگا کہ وہ کام کو ادھورا چھوڑنے کی بجائے اسے انجام تک پہنچائیں۔ اس سلسلے میں فتح کے مغالطےسے بچنا اہم ہوگا، یعنی دہشت گردی میں کمی آنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے بے دخل ہوتے ہی وقت سے پہلے فتح کا اعلان کر دینا۔ تشدد کے نہ ہونے کو امن سمجھنے کی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ جب تک قانون کی حکمرانی اور فعال نظام حکومت کے ذریعے انتہا پسندانہ نظریات کی جذباتی و فکری اپیل کمزور نہیں ہو جاتی، ریاست کو اپنی سکیورٹی فورسز اور تیاری کو ہرگز کمزور نہیں کرنا چاہیے۔
یہ ایک جامع و ہمہ گیر حکمتِ عملی ہوگی، جس میں ریاست کا عسکری کردار اس کام کا صرف 20 فیصد حصہ ہوگا جبکہ بقایا 80 فیصد معاشرے کی شمولیت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ اس میں کمیونٹی کی شمولیت اور سماجی توازن و استحکام شامل ہوگا، جہاں لوگ ریاست سے تحفظات کے باوجود انتہا پسندانہ اثرات کو مکمل طور پر مسترد کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ریاست اور معاشرے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ انتہائی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ثانیاً، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ ایک لازمی اقدام تو ہے لیکن یہ اکیلا کافی نہیں ہے۔ گورنر راج کا نفاذ عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو تو بہتر بنائے گا، تاہم، دہشت گردی راتوں رات ختم نہیں ہونے والی۔ سکیورٹی اداروں کو امن بحال کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔
اس لیے، مسلسل اور واضح مواصلات کے ذریعے عوام کی توقعات کو متوازن رکھنا انتہائی اہم ہے۔ پہلے مرحلے میں سکیورٹی ادارے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع سے دہشت گردوں کا صفایا کر کے ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کریں گے اور ان کے سہولت کاروں کا تعاقب کریں گے۔ نتیجے کے طور پر، دہشت گرد نیٹ ورکس کی عملی صلاحیتیں کمزور ہو جائیں گی اور بالخصوص ان کی مسلسل بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی طاقت تقریباً مفلوج ہو جائے گی۔
مزید برآں، پاکستان کو سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر افغان طالبان پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔
سفارتی سطح پر، پاکستان کو چاہیے کہ وہ طالبان کی جانب سے پاکستانی دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرپرستی کو بے نقاب کرنا جاری رکھے اور طالبان حکومت کے تحت افغانستان کا خطے کے امن و سکیورٹی کے لیے خطرہ بنتے ہوئے دہشت گردی کے مرکز کے طور پر ابھرنے کو نمایاں کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو ثالثوں کے ذریعے طالبان پر یہ دباؤ برقرار رکھنا چاہیے کہ وہ افغانستان سے پاکستانی دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں انہیں غیر مسلح کریں، وہاں سے منتقل کریں اور ان کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کریں۔
عسکری سطح پر، پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی پر پاکستانی دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان دونوں پر اس وقت تک سخت تلافی پر مبنی اثرات مرتب کرتے رہنا چاہیے جب تک کہ طالبان پہلے کی حمایت پر ازسرِنو غور نہ کریں اور دوحہ معاہدہ 2020 کے تحت اپنی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے تعاون پر تیار نہ ہوں۔
آخر میں، اگرچہ ایک غیر محدود انسدادِ دہشت گردی مہم وسائل کو نچوڑ سکتی ہے اور اپنی عملی افادیت کھو سکتی ہے، لیکن جلدی بازی اور عجلت میں کیے گئے حل بھی اتنی ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف یہ جدوجہد طویل ہوگی۔ یہ ایک تدریجی اور مرحلہ وار عمل ہوگا تاکہ پہلے عسکری کارروائی کے ذریعے دہشت گردی کے شدید اثرات کو کند کیا جائے اور پھر غیر عسکری پالیسیوں کے ذریعے حاصل شدہ سکیورٹی فوائد کو مستحکم کیا جائے۔
دہشت گردی کے باب کو بند کرنے اور امن کو یقینی بنانے کے لیے یہ عمل کسی نئے فکری زاویے اور نمایاں تبدیلی سے کم نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے، ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلقات کو استوار کرنا اور دوریوں کو ختم کرنا انتہائی اہم ہے۔ بالآخر، ریاستیں دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں جبکہ معاشرے انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کر کے ان پر فتح حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی مہم ایک حساس موڑ پر کھڑی ہے اور اس کا نتیجہ بحیثیت ریاست و نظام حکومت ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p>خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ میں پولیس اہلکار 14 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے خلاف مظاہروں کے بعد نذر آتش کی گئی نادرا وین کا جائزہ لے رہا ہے (اے ایف پی) </p>
.png)
3 hours ago
4




English (US) ·