ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اسلامک رپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی عمان کا دورہ ختم کر کے اتوار کی رات اسلام آباد واپس آنے والے ہیں۔
عراقچی جمعے کو اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ فروری میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد کی کشیدگی پر بات چیت کی جا سکے۔
وہ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد ہفتے کی رات عمان کے دورے پر چلے گئے تھے۔
ایران سے بات چیت کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر نے اسلام آباد پہنچنا تھا۔
تاہم، ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ دورہ منسوخ کر دیا کیونکہ ایران کی نظرثانی شدہ امن پیشکش ’کافی نہیں‘ تھی۔
ارنا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے اور روس روانگی سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔
ارنا نے یہ بھی بتایا کہ عراقچی کے وفد کا ایک حصہ ہفتے کی رات اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے مذاکرات کے بعد تہران واپس لوٹ گیا تھا۔
یہ وفد جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تہران واپس پہنچا اور توقع ہے کہ وہ اتوار کی رات اسلام آباد میں دوبارہ عراقچی سے ملے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی وزیر خارجہ نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کی جانب سے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کیے جانے سے اسلام آباد میں جاری ثالثی کی کوششوں کو ایک نیا دھچکا لگا۔
ایرانی صدر مسعود پزشیکیان نے شہباز شریف کو بتایا کہ تہران دھمکیوں یا ناکہ بندی کے تحت ’مسلط کردہ مذاکرات‘ میں شامل نہیں ہو گا۔
انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں سمیت آپریشنل رکاوٹیں ختم کرے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل برقرار ہے، جہاں ایران نے عالمی توانائی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود کر رکھا ہے جبکہ امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·