ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی افزودہ جوہری مواد کو ملک سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں دے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت ایک وفد کے ہمراہ تہران پہنچے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کی واشنگٹن کے ساتھ تعطل کی شکار سفارت کاری کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
پاکستان نے جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور دیرپا تصفیے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے ہونے والے ایک معاہدے میں مدد کی تھی۔
تاہم، بعد ازاں یہ معاہدہ ناکام ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستے تک رسائی سے متعلق تنازعات حل طلب رہ گئے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا کہ ’تمام افزودہ جوہری مواد ایران ہی میں رہے گا۔ افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا۔ یہ مواد ایرانی عوام کے لیے ایک بڑا اثاثہ اور قومی دولت ہے، جسے ملک کے اندر استعمال کرنے کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی حکام اور عوام اس بات پر متفق ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے تک مذاکرات نہیں ہونے چاہییں، اور اس کا آغاز ایران کی شرائط پوری کرنے سے ہونا چاہیے۔
یہ بیان ایران کے جوہری ذخیرے کے مستقبل سے متعلق تہران کے مؤقف کو نمایاں کرتا ہے، جو جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات کا ایک مرکزی معاملہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
افزودہ یورینیم جوہری ری ایکٹروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے، تاہم اگر اسے کافی بلند سطح تک افزودہ کیا جائے تو اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورے کے دوران منگل کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ابتدائی ملاقات کے بعد صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔
ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، تاہم کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے واشنگٹن کو دباؤ، دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دباؤ، دھمکیاں اور پابندیاں ختم کی جائیں۔‘
<p>پاکستان کے فیلڈ مارشل اور ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے درمیان 20 اکتوبر کو تہران میں ملاقات ہوئی (ارنا)</p>
.png)
1 hour ago
2



English (US) ·