پاکستان نے اتوار کو ایک بیان میں انڈین ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں ایک صدی قدیم مسجد کو مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا ’پاکستان پانچ ستمبر، 2026 کو انڈیا کے شہر سہارنپور میں ایک صدی قدیم مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ’ایک تاریخی اسلامی عبادت گاہ کے خلاف یہ قابل مذمت اقدام اسلامی ورثے کو مٹانے کے لیے جاری وسیع تر اسلاموفوبک اور ہندوتوا سے متاثرہ مہم کا ایک اور مظہر ہے۔
’1992 میں تاریخی بابری مسجد کی مسماری مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی اس نظریے کی ایک مستقل علامت بنی ہوئی ہے۔‘
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’انڈین حکام کی جانب سے مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنائے جانے اور ریاستی سرپرستی میں ان کی عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی اور مسماری کا فوری نوٹس لے۔‘
بیان کے مطابق ’انڈین حکام کو تمام اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی بنیادی مذہبی آزادیوں اور ثقافتی ورثے کے خلاف ایسے اقدامات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘
سہارنپور میں ضلعی کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر واقع اس مسجد کو ہفتے کی صبح سویرے بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کر دیا گیا تھا۔
مسمار کرنے کی کارروائی کے دوران کلکٹریٹ کے تمام داخلی راستے بند اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
انڈین نیوز ویب سائٹ دی ہندو کے مطابق حکام نے مسجد کو سرکاری اراضی پر غیر مجاز تعمیر قرار دیا تھا جس کے خلاف مسجد انتظامیہ نے ضلعی عدالت میں اپیل دائر کی تھی جو رد کر دی گئی۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
مسجد کے متولی تنویر احمد نے تاہم الزام عائد کیا کہ انہدام کے لیے کوئی باقاعدہ حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا اور مناسب قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔
مسجد انتظامیہ نے معاملہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسجد کی مسماری پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے وجود کے ریکارڈ 1911 یا اس سے بھی پہلے کے ہیں اور یہ جگہ ایک مسلمان نےمسجد کے لیے وقف کی تھی۔
اویسی کا مزید کہنا تھا کہ مقامی مسلمان طویل عرصے سے یہاں نماز ادا کرتے رہے ہیں اور ’وقف بائی یوزر‘ اور ’ایڈورس پوزیشن‘ جیسے قانونی اصول بھی مسجد کے حق میں ہیں۔
انہوں نے مسجد کو صبح سویرے سخت سکیورٹی میں مسمار کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ انتظامیہ کو معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک لے جانے کا موقع دینا چاہیے تھا۔
مقامی سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی کارروائی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
<p>سہارنپور میں ضلعی کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر واقع اس مسجد کو 5 ستمبر 2026 کی صبح بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کر دیا گیا تھا (دکن ہیرلڈ/ پریس ٹرسٹ آف انڈیا)</p>
.png)
1 hour ago
1



English (US) ·