انڈونیشیا: مسافر بردار بحری جہاز کو حادثہ، 243 افراد میں سے 140 کی تلاش جاری

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

انڈونیشیا کےامدادی حکام  نے کہا ہے کہ اتوار کو خراب موسم کے باعث جزیرہ جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کرنے والی ایک کشتی حادثے کا شکار ہوگئی۔ واقعے میں ایک شخص جان سے گیا، جب کہ 100 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا اور 140 کی تلاش جاری ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ورگو ٹرانسپورٹ ایٹ نامی کشتی میں مسافروں اور عملے سمیت 243 افراد سوار تھے۔ مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانگی کے بعد اتوار کی صبح کشتی کا اپنی شپنگ کمپنی سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

مقامی امدادی ادارے کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے کہا: ’ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ مجموعی طور پر 103 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بانجرماسین شہر میں صحافیوں کو بتایا کہ مسافروں میں سے ایک شخص جان سے گیا۔ کشتی اسی بندرگاہی شہر کی طرف جارہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امدادی کارکنوں کو کشتی تک پہنچنے کے لیے ڈھائی میٹر (8.2 فٹ) تک بلند لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے حالات میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ بہت زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ انڈونیشیا کے امدادی ادارے بسرناس کا 40 میٹر طویل جہاز بھی شدید خطرے میں ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائی میں انڈونیشیا کے امدادی ادارے باسارناس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی شامل ہوگیا ہے۔

آئی پوتو سودایانا نے اس سے پہلے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ رابطہ منقطع ہونے سے قبل جہاز کے کپتان نے اطلاع دی تھی کہ کشتی ایک طرف جھک رہی ہے۔

کشتی کی آخری موجودگی بحیرہ جاوا میں اپنی منزل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ریکارڈ کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بانجرماسین کی بندرگاہ کے سربراہ ہیری پروانتو کے مطابق مسافروں اور گاڑیوں کو لے جانے والی فیری کا رابطہ اتوار کو رات دو بجے منقطع ہوا۔

انہوں نے کہا: ’حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہم نے فوری کارروائی شروع کردی۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح فیری میں سوار تمام افراد کی حفاظت ہے اور اس مقصد کے لیے منظم امدادی کارروائی جاری ہے۔‘

بانجرماسین کی بندرگاہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے ایک مرکز قائم کردیا گیا، جہاں طبی عملہ اور ایمبولینسیں تیار کھڑی تھیں۔

مسافروں کے درجنوں رشتہ دار اور دوست ایک سفید بورڈ پر بچائے گئے افراد کے نام دیکھتے رہے، جسے مسلسل تازہ کیا جا رہا تھا۔

26 سالہ جینا اپنے بڑے بھائی کے بارے میں معلومات لینے امدادی مرکز پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا: ’میں بہت پریشان اور صدمے میں ہوں۔ ابھی تک مجھے مزید کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘

جینا نے بتایا: ’وہ اکیلا سفر کر رہا تھا۔ مجھے امید ہے کہ وہ زندہ ہوگا۔ کل رات سے اس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔‘

17 ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل انڈونیشیا میں سمندری حادثات اکثر ہوتے رہتے ہیں، کیوں کہ روزمرہ سفر اور سیاحت کے لیے کشتیوں اور بحری جہازوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ حفاظتی اصولوں کی کمزور پابندی اور اچانک بدلنے والا موسم ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

روئٹرز کے مطابق انڈونیشیا میں امدادی ادارے کے بانجرماسین دفتر کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مختلف جہازوں کی مدد سے بچائے گئے 103 افراد میں سے کچھ کو مشرقی جاوا کی ایک بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے جہاز کی آخری معلوم جگہ کی جانب ٹیمیں، جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر بھیج کر لاپتہ افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔

امدادی حکام کے مطابق خراب موسم کے باعث اتوار کو جزیرہ جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کرنے والی کشتی حادثے کا شکار ہوگئی۔ ایک شخص جان سے گیا۔
اتوار, ستمبر 13, 2026 - 14:00
Main image: 

<p>انڈونیشیا میں ایک خاتون&nbsp;13 ستمبر 2026 کو اس وقت نڈھال ہو گئیں جب انہیں بتایا گیا کہ ان کا رشتہ دار بھی ڈونبے والی بحری جہاز میں موجود تھا (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
انڈونیشیا: مسافر بردار بحری جہاز کو حادثہ، 243 افراد میں سے 140 کی تلاش جاری
Read Entire Article
Chatroom