امریکہ: جب ایک پوڈکاسٹ نے 1982 میں ہوئے قتل کا معمہ حل کروا دیا

3 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایک پوڈکاسٹر نے چار دہائیوں سے زائد پرانے ایک نوعمر لڑکی کے قتل کے سرد مقدمے میں چار افراد کی گرفتاریوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کوونگٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے چیف مائیکل فیرل نے کہا ’سرد مقدمات خود بند نہیں ہوتے۔ وہ اس لیے حل ہوتے ہیں کہ لوگ ہر سال سامنے آتے ہیں اور ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔‘

16 سالہ روکسین شارپ کی لاش فروری 1982 میں لوئیزیانا کے شہر کوونگٹن میں سینٹ ٹمنی پیرش فیئر گراؤنڈز کے قریب ایک جنگل سے ملی تھی۔

کوونگٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ شارپ کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا اور لاش وہیں پھینک دی گئی۔

تاہم، ٹھوس شواہد کی کمی اور عوامی تعاون محدود ہونے کی وجہ سے یہ کیس حل نہ ہو سکا۔

2025 میں نئے سراغ حاصل کرنے کی کوشش میں تفتیش کاروں نے لوئیزیانا سٹیٹ پولیس اور مقامی ریڈیو میزبان چارلس ڈاؤڈی کے ساتھ مل کر ’ہو کلڈ روکسین‘ کے عنوان سے ایک پوڈکاسٹ تیار کیا۔

اس پوڈکاسٹ سے نئی معلومات، سراغ اور ایسے گواہوں کا تعاون سامنے آیا جو اس سے پہلے تفتیش کاروں کے علم میں نہیں تھے۔

اس کے نتیجے میں پیری ٹیلر (64 سال)، ڈیرل سپیل (64 سال)، کارلوس کوپر (64 سال) اور بلی ولیمز جونیئر (62 سال) کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ چاروں افراد، جو سب کوونگٹن کے رہائشی ہیں، پر شارپ کی موت کے حوالے سے سنگین ریپ اور دوسرے درجے کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔

ولیمز جونیئر اور سپیل کو 21 اپریل کو حراست میں لیا گیا جبکہ ٹیلر اور کوپر، جو پہلے ہی غیر متعلقہ مقدمات میں لوئیزیانا ڈیپارٹمنٹ آف کریکشنز کی تحویل میں تھے، کو اگلے دن آگاہ کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈسٹرکٹ اٹارنی کولن سمز نے کہا ’یہ کیس اس بات کی ایک طاقت ور مثال ہے کہ مستقل مزاجی، باہمی تعاون اور تفتیشی ٹیکنالوجی میں ترقی کیا کچھ حاصل کر سکتی ہے۔‘

’چار دہائیوں سے زائد عرصے تک اس متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان نے انصاف کا انتظار کیا۔ آج کی گرفتاریاں ہمارے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہم انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں، چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، اور ذمہ داروں کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘

پولیس چیف فیرل نے مزید کہا ’روکسین شارپ کے کیس کا حل اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے افسران کسی متاثرہ شخص کو فراموش ہونے نہیں دیتے تو کیا ممکن ہوتا ہے۔‘

’چار دہائیوں سے زائد عرصے تک کوونگٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ اور لوئیزیانا سٹیٹ پولیس نے روکسین کے کیس کو زندہ رکھا، شواہد کا ازسر نو جائزہ لیا، نئے سراغ کی پیروی کی اور ان کا نام زندہ رکھا، یہاں تک کہ جب جوابات پہنچ سے دور دکھائی دیتے تھے۔‘

’ہماری ایجنسیوں نے بالکل یہی کیا اور آج روکسین اور ان کے خاندان کو وہ انصاف مل گیا جس کا وہ طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔

’ہم اس کیس پر کام کرنے والے ہر تفتیش کار پر فخر کرتے ہیں اور اس شراکت داری کے لیے دل کی گہرائی سے شکر گزار ہیں جس نے اس لمحے کو ممکن بنایا۔‘

Read Entire Article