فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے وسطی علاقے دیر البلح میں ہفتے کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے، جو غزہ جنگ کے بعد پہلا انتخابی عمل ہے۔ یہ انتخابات محدود سیاسی میدان اور عوامی مایوسی کے سائے میں منعقد ہوئے۔
رام اللہ میں قائم مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افراد اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں جبکہ 70 ہزار افراد غزہ کے دیر البلح علاقے میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔
اے ایف پی کی فوٹیج میں مغربی کنارے کے علاقے البیرہ اور غزہ کے دیر البلح میں پولنگ سٹیشنز پر انتخابی عملہ اور ووٹرز کو دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صبح کے وقت ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، جبکہ متعدد غیر ملکی سفارت کاروں نے بھی پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر تک ٹرن آؤٹ 15 فیصد رہا۔
زیادہ تر امیدواروں کی فہرستیں صدر محمود عباس کی الفتح جماعت سے منسلک ہیں یا آزاد امیدواروں پر مشتمل ہیں۔
الفتح کے روایتی حریف حماس سے وابستہ کوئی فہرست ان انتخابات میں شامل نہیں، جو غزہ کے تقریباً آدھے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
زیادہ تر شہروں میں الفتح کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد امیدواروں کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں مختلف سیاسی گروہوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔
البیرہ میں ووٹ ڈالنے والے 55 سالہ خالد عید نے کہا کہ’ہمیں ہر چار سال بعد انتخابات کے ذریعے تبدیلی دیکھنی چاہیے، ہم حالات تو نہیں بدل سکتے، لیکن ہم لوگوں کو بدلنے کی امید رکھتے ہیں، ایسے لوگ جو شاید بہتر ہوں اور کمیونٹی کی ترقی میں مدد دے سکیں‘۔
کچھ امیدواروں نے شکایت کی کہ انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا، جن میں نابلوس سے تعلق رکھنے والی ایک فہرست کے سربراہ محمد دویکات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی فہرست میں شامل بعض امیدواروں کو رجسٹریشن کے عمل کے اختتام تک حراست میں رکھا گیا۔
نابلوس میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس بار پہلی بار خاتون میئر منتخب ہو سکتی ہیں، کیونکہ وہاں مقابلے میں کوئی دوسرے امیدوار موجود نہیں۔
یورپی یونین نے انتخابات کو سراہا
فلسطین کی بلدیاتی کونسلز پانی، صفائی اور مقامی انفراسٹرکچر جیسے بنیادی خدمات کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور قانون سازی نہیں کرتیں۔
فلسطینی اتھارٹی کو بدعنوانی، جمود اور کمزور ہوتی ہوئی ساکھ پر تنقید کا بھی سامنا ہے۔
مغربی اور علاقائی ڈونرز نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے مالی اور سفارتی حمایت کو بتدریج واضح اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے، خاص طور پر مقامی سطح کی حکمرانی کے حوالے سے، کیونکہ قومی انتخابات طویل عرصے سے معطل ہیں۔
سال 2006 کے بعد سے نہ صدارتی اور نہ ہی پارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں، جس کے باعث بلدیاتی کونسلیں فلسطینی اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے چند فعال جمہوری اداروں میں سے ایک بن گئی ہیں۔
یورپی یونین نے کہا کہ یہ انتخابات ’وسیع جمہوریت کے فروغ اور مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، جو مجموعی طور پر جاری اصلاحاتی عمل کے مطابق ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے رابطہ کار رمیز الاکبروف نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک ’قابلِ اعتماد عمل‘ کے انعقاد پر سراہا۔
شمالی مغربی کنارے کے شہر تولکرم سے تعلق رکھنے والے تاجر محمود بدیر، جہاں دو قریبی پناہ گزین کیمپ ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالیں گے اگرچہ انہیں کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں۔
انہوں نے جمعہ کو اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’چاہے امیدوار آزاد ہوں یا کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اس کا شہر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی فائدہ ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’تولکرم پر اصل حکمرانی اسرائیلی قبضے کی ہے۔ یہ صرف ایک تصویر ہے جو بین الاقوامی میڈیا کو دکھائی جاتی ہےجیسے ہمارے ہاں انتخابات ہوتے ہیں، کوئی ریاست یا آزادی ہے۔‘
’مضبوط عزم‘
الیکشن کمیشن نے اے ایف پی کو بتایا: ’مغربی کنارے میں پولنگ سٹیشنز شام سات بجے بند ہو جائیں گے، جبکہ دیر البلح میں پولنگ شام پانچ بجے ختم کر دی جائے گی تاکہ بجلی کی کمی اور اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ علاقے میں دن کی روشنی میں گنتی مکمل کی جا سکے۔
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی دو سالہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے اور 72 ہزار سے زائد افراد جان سے گئے یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارت صحت کے ہیں جنہیں اقوام متحدہ قابل اعتماد سمجھتا ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر، صفائی ستھرائی کے نظام اور صحت کا شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
غزہ، جو 2007 سے حماس کے کنٹرول میں ہے، 2006 کے قانون ساز انتخابات کے بعد پہلی بار کسی انتخابی عمل کا حصہ بن رہا ہے، جن میں حماس نے کامیابی حاصل کی تھی۔
قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کے سیاسی سائنسدان جمال الفادی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: فلسطینی اتھارٹی صرف دیر البلح میں انتخابات کا انعقاد کر رہی ہے، جسے ایک تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ اپنی کارکردگی کے نتائج کو جانچا جا سکے، کیونکہ اسرائیلی جارحیت کے بعد کوئی باقاعدہ عوامی رائے عامہ کے سروے موجود نہیں ہیں۔
ان کے مطابق دیر البلح کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ غزہ کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں دو سال سے زائد جاری حماس اور اسرائیل کی لڑائی کے باوجود آبادی بڑی حد تک اپنی جگہ پر موجود رہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں ہوئی۔
24 سالہ محمد الحصینہ نے دیر البلح میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اگرچہ یہ انتخابات زیادہ تر علامتی نوعیت کے ہیں، تاہم یہ لوگوں کے ’زندہ رہنے کے عزم‘ کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا: ’ہم ایک تعلیم یافتہ اور باحوصلہ قوم ہیں اور ہمیں اپنی ریاست کا حق حاصل ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جنگ کی تباہ کاریوں سے نکلنے میں ہماری مدد کرے۔ اب کافی ہو چکا، اب وقت ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔‘
.png)
4 hours ago
1



English (US) ·