استنبول میں بارش کا 80 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سیلابی صورتحال سے 3 افراد ہلاک، 5 لاپتا

6 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں کم از کم 80 سال کی شدید ترین بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 5 لاپتا ہوگئے۔ حکام کے مطابق بارش کے باعث سڑکیں زیر آب آگئیں، گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں اور متعدد علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کی صبح شروع ہونے والی موسلادھار بارش دن بھر شدت اختیار کرتی رہی۔ استنبول کے گورنر داؤد گل نے بتایا کہ شہر میں 1942 میں ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ سب سے زیادہ بارش ہے۔ حکام کے مطابق یورپی حصے کے علاقے کاغتھانے میں ایک پارک کے قریب سے ایک شخص کی لاش ملی، جبکہ علاقے بالات میں 14 سالہ لڑکا پانی میں قدم رکھنے کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم جان نہیں بچائی جا سکی۔ ایشیا کی جانب واقع علاقے بیوکوز میں ایک شخص کے کنویں میں گرنے سے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی، تاہم حکام نے فوری طور پر اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ پانچ افراد تاحال لاپتا بتائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں تیز بہاؤ کے باعث گاڑیوں کو سڑکوں سے بہتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعض مقامات پر لوگوں کو عمارتوں کی کھڑکیوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شدید بارش کے باعث استنبول میں اسکول پیر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی۔ نشیبی علاقوں اور تہہ خانوں میں رہنے والوں کو بھی زیادہ محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ امدادی ٹیموں، فائر فائٹرز اور بلدیاتی اہلکاروں نے اسکولوں، کھیل کے میدانوں، گیراجوں اور دیگر مقامات سے پانی نکالنے اور کیچڑ صاف کرنے کا کام شروع کیا۔ قدرتی آفت سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق بدھ کی رات تک سیلاب کے 1,277 واقعات، لینڈ سلائیڈنگ کے 15 واقعات اور 47 افراد کے پھنسنے کی اطلاعات موصول ہو چکی تھیں۔ دو عمارتوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ترکی کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق خراب موسم کے باعث استنبول ایئرپورٹ آنے والی 43 پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑنا پڑا، جبکہ صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ کی جانب جانے والی تین پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔ تیز ہواؤں کے باعث صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ پر کچھ وقت کے لیے پروازوں کی روانگی بھی معطل رہی۔ استنبول کے قریبی صوبے سکاریا کے علاقے سپانجا میں ندی کے کنارے واقع دو منزلہ مکان منہدم ہوگیا۔ حکام کے مطابق مکان کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا، اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ صوبہ کوجائیلی کے علاقے گیبزے میں ندی کا پانی کناروں سے باہر نکل آیا اور ایک گاڑی سوار کو بہا لے گیا، جسے امدادی کارکنوں نے رسیوں کی مدد سے بچا لیا۔ اسی صوبے کے علاقے باشیسکلی میں ایک شخص کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کے بعد لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے آخر تک مزید شدید بارشوں کا امکان ہے۔
Read Entire Article
Chatroom