اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم ہفتے کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ان کے اس دوسرے کا مقصد دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز پیش کیا جائے گا۔
پاکستان اور اردن کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک سعودی عرب، قطر، مصر، انڈونیشیا، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے متعلق مشاورت میں بھی شامل رہے ہیں۔
اپنے دورہ پاکستان کے دوران شاہ عبداللہ صدر پاکستان اور وزیرِ اعظم سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں سمیت باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
عمان میں پاکستانی سفارت خارنے کے مطابق اردن اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت سال 2023 کے دوران 46.58 ملین ڈالر رہی ہے جبکہ اردن میں تقریباً 16,000 پاکستانی بھی مقیم ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان–اردن سٹریٹجک شراکت میں نئی جان ڈالے گا اور اسے ایک جامع اور وسیع البنیاد تعاون کے راستے پر گامزن کرے گا۔
اردن پاکستان کو تسلیم کرنے والا دنیا کا پانچواں ملک تھا اور اگست 1948 میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔
سال 2023 میں پاکستان اور اردن کے درمیان تجارت کا حجم 46.58 ملین ڈالر رہا، جبکہ اردن میں تقریباً 16 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق شاہ عبداللہ دوم کا یہ دورہ پاکستان اور اردن کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو وسیع بنانے میں مدد دے گا۔
.png)
5 months ago
20



English (US) ·