لاہور میں پولیس کے ڈیفنس (سی) کے علاقے میں آذربائیجان کی شہری ڈیانا نامی خاتون کے مبینہ ریپ کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
ایس پی کینٹ عثمان عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’تین ملزمان پر غیر ملکی خاتون کو نشہ آور دوا پلا کر اجتماعی زیادتی کا الزام ہے۔‘
ان کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد بھی جمع کر کیے گئے ہیں۔
’خاتون کا طبی معائنہ بھی کروایا گیا ہے جس کی رپورٹ ابھی نہیں آئی۔‘
ایس پی کینٹ کے مطابق ’سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ذرائع سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اس حوالے سے ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔‘
پاکستان میں سماجی تنظیم ساحل کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال جنوری سے جون تک چھے ماہ میں 280 خواتین سے ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق یہ تعداد اصل صورتحال کی مکمل تصویر نہیں ہے کیونکہ بہت سی خواتین اور بچیاں ریپ یا جنسی تشدد کے بعد سماجی دباؤ کے باعث پولیس سے رابطہ نہیں کرتیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کچھ عرصہ قبل بھی لاہور میں ہی دو غیر ملکی خواتین سے اجتماعی ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ملزمان گرفتار ہیں اور کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
تھانہ ڈیفنس سی میں ڈیانا نامی خاتون نے ہفتہ 26 ستمبر کو مقدمہ درج کروایا جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں آذربائجان کی شہری ہوں میری عمر 20 سال ہے اور کاروبار کے سلسلے میں 15 دن پہلے لاہور آئی تھی۔
’مجھے جمعے کی رات دو لڑکیاں دوست بن کر ایک کیفے پر کھانا کھلانے لے گئیں جنہیں سامنے آنے پر پہچان سکتی ہوں۔ وہان تین نامعلوم افراد موجود تھے انہیں بھی سامنے آنے پر پہچان سکتی ہوں۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’انہوں نے کہا کہ آؤ آؤٹنگ پر چلتے ہیں۔ وہ مجھے گاڑی میں ایک فیلٹ پر لے آئے۔ وہاں شراب میں نشہ آور دو ملا کر پلائی اور تینوں افراد نے باری باری ریپ کا نشانہ بنایا۔
’وہ نے مجھے اگلے دن دو بجے یعنی ہفتے کو گاڑی میں غازی انٹر چینچ کے پاس چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ میرا سامان، آئی فون بھی چھین لیا۔ جس کے بعد میں نے ایک راہ گیر سے فون لے کر 15 پر کال کر کے پولیس کو مدد کے لیے بلایا۔‘
پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے بعد سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کیس کے حوالے سے بھی تمام پہلوؤں پر تفتیش ہوگی۔
<p>لاہور میں 11 فروری 2024 کو ایک احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لیے پولیس اہلکار وین پر موجود ہیں (فائل فوٹو/ روئٹرز)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·