القاعدہ نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں تنظیم کی تاریخ اور نظریاتی بیانیے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو بھی دکھایا گیا ہے۔
دہشت گردی کی نگرانی کرنے والے ادارے میمری (MEMRI) کے مطابق 52 منٹ طویل ویڈیو القاعدہ کے میڈیا ونگ السحاب کی جانب سے ’نائن الیون کے بعد کے 25 سال‘ عنوان سے جاری کی گئی۔ اس ویڈیو میں نائن الیون کو تاریخ کا رخ موڑنے والے ایک اہم واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں تنظیم کی گذشتہ سرگرمیوں، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور 9/11 حملوں سے قبل احمد شاہ مسعود کے قتل سمیت مختلف واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ویڈیو زیادہ تر آرکائیو فوٹیج پر مشتمل ہے، جس میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مناظر، مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے اقتباسات اور امریکی و یورپی تجزیہ کاروں کے تبصرے شامل ہیں، جن میں حملوں کے سیاسی، عسکری اور معاشی اثرات پر گفتگو کی گئی ہے۔
ویڈیو میں شامل شخصیات میں سابق امریکی انسداد دہشت گردی حکام اور ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں، جو 11 ستمبر کے حملوں کی اہمیت اور بین الاقوامی سکیورٹی پر ان کے دیرپا اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
ویڈیو کی نمایاں بات حمزہ بن لادن کی موجودگی یا حوالوں کو قرار دیا جا رہا ہے، جسے ماضی میں القاعدہ کے ممکنہ مستقبل کے رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ امریکی حکام نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ حمزہ ایک انسداد دہشت گردی کارروائی میں مارا گیا، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی ممکنہ زندہ موجودگی سے متعلق قیاس آرائیاں اور غیر مصدقہ رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
حمزہ بن لادن ویڈیو میں دو مرتبہ نظر آتا ہے اور دونوں مواقع پر اس نے روایتی افغان سر پر پگڑی پہن رکھی ہے۔ پہلی مرتبہ وہ ویڈیو کے تقریباً نو منٹ بعد دکھائی دیتا ہے، جہاں وہ اسلام کے خلاف مبینہ عالمی جنگ پر گفتگو کر رہا ہے۔ اس اقتباس میں وہ کہتا ہے: ’آج اسلام سخت آزمائشوں، ایک مشکل مرحلے اور مکمل جنگ سے گزر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دشمن نہیں چاہتے کہ یہ دین، کلمۂ حق یا الٰہی قانون غالب آئے۔ اسی لیے انہوں نے مذہبی، ثقافتی، معاشی اور بالآخر عسکری ذرائع کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ویڈیو کے آخری منٹ میں حمزہ بن لادن دوبارہ نظر آتا ہے، جہاں وہ ایک نظم پڑھ رہا ہے۔ یہ فوٹیج اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے جب القاعدہ نے کسی سرکاری میڈیا پروڈکشن میں اس کا چہرہ عوامی طور پر دکھایا ہو۔
اسی طرح ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ ویڈیو میں اس کی شناخت صرف ’حمزہ‘ یا ’حمزہ بن لادن‘ کے نام سے کی گئی ہے اور وہ اعزازی القابات استعمال نہیں کیے گئے جو جہادی تنظیمیں عموماً کسی شخص کے زندہ یا وفات پا جانے کی نشاندہی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
تاہم اس ویڈیو کی آذادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ نئی یا پرانی ہے یا اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 ستمبر 2019 کو عوامی طور پر اس کی موت کی تصدیق کی تھی۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران مارا گیا، تاہم اس کارروائی کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق القاعدہ کی جانب سے 9/11 کی برسی کی ویڈیو میں حمزہ بن لادن کو دو مرتبہ نمایاں طور پر دکھانے کا مقصد غالباً اس کی حالت یا ممکنہ موجودگی کے بارے میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام اسامہ بن لادن کی میراث کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کے حامیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حمزہ بن لادن کو دوبارہ تنظیم کے چہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو اس کا مقصد القاعدہ کے حامیوں کو یہ تاثر دینا ہو سکتا ہے کہ تنظیم قیادت کی تبدیلیوں اور سکیورٹی دباؤ کے باوجود برقرار ہے۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9/11 حملوں کو 25 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے تھے، جس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور القاعدہ کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ القاعدہ اب اپنے عروج کے دور جیسی طاقت نہیں رکھتی، تاہم اس کی علاقائی شاخیں خصوصاً افریقہ اور بعض دیگر خطوں میں اب بھی سرگرم ہیں اور تنظیم اپنی نظریاتی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
<p class="rteright">القاعدہ کی 9/11 کے موقع پر 10 ستمبر 2026 کو جاری ویڈیو میں افغانستان اور پاکستان کے پختونوں کی روایتی پگڑی پہنے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو دو رتبہ دکھایا گیا ہے (القاعدہ ویڈیو گریب) </p>
.png)
2 hours ago
3





English (US) ·