سری لنکا کرکٹ بورڈ کے ایک عہدے دار نے بدھ کو بتایا کہ کم از کم آٹھ سری لنکن کرکٹرز نے سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان اور زمبابوے کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز میں حصہ لیے بغیر وطن واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں نے منگل کو پاکستانی دارالحکومت میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اپنی سکیورٹی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے تھے۔
سری لنکا کرکٹ کے عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کھلاڑیوں کی واپسی کے فیصلے کے بعد پاکستان کے خلاف جمعرات کو ہونے والا دوسرا ون ڈے میچ کا انعقاد بھی غیر یقینی کا شکار ہے، تاہم متبادل کھلاڑی بھیجے جائیں گے تاکہ سہ ملکی سیریز جاری رہ سکے۔
سری لنکا کرکٹ کے صدر شامی سلوا نے کہا کہ وہ ٹورنامنٹ جاری رکھنے کے حوالے سے باضابطہ بیان تیار کر رہے ہیں تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مارچ 2009 میں لاہور میں گن مینوں نے سری لنکن ٹیم کی بس پر فائرنگ کی تھی جس میں چھ کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد تقریباً ایک دہائی تک غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان میں کھیلنے سے گریز کیا۔
منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے باوجود میچ شیڈول کے مطابق ہوا جس میں پاکستان نے دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں سری لنکا کو چھ رنز سے شکست دی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق حملے کے بعد مہمان ٹیم کے اردگرد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ون ڈے سیریز کے باقی دو میچ بھی جمعرات اور ہفتے کو راولپنڈی میں ہی کھیلے جانے کا شیڈول ہے۔
.png)
5 months ago
25



English (US) ·