پاکستان ٹینس فیڈریشن کے ہیڈکوارٹرز میں گذشتہ ہفتے ایک جونیئر ٹینس میچ کے دوران ریکیٹ کے گیند سے ٹکرانے کی تیز آواز سے کچھ لمحے قبل دو اجنبیوں کے درمیان ایک پرانے مگر صحیح سلامت 100 روپے کے نوٹ کا خاموشی سے تبادلہ ہوا۔
اس مختصر تبادلے میں، یہ نوٹ تقریباً چھ دہائیوں کی جدائی کا بوجھ اور ایک مدھم سی امید اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا، جس نے دو ہمسایہ ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ایک غیر متوقع تعلق قائم کر دیا۔ وہ ممالک جو کبھی ایک ہی ملک کا حصہ تھے۔
پاکستان ڈیوس کپ کے سابق کپتان اور مصنف محمد علی اکبر جونیئرز کا ٹینس میچ دیکھ رہے تھے کہ ان کی ملاقات نورِ عالم چوہدری سے ہوئی۔
انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ چوہدری کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ ایک ہلکی پھلکی گفتگو جلد ہی ایک غیر متوقع رخ اختیار کر گئی اور ایک سادہ سے عمل نے ماضی کی یادوں کو تازہ کر دیا۔
70 سال سے زائد عمر کے محمد علی اکبر نے نورِ عالم چوہدری سے اپنی گفتگو یاد کرتے ہوئے بتایا: ’جب میں نے انہیں کہا کہ میں بنگلہ دیش جا چکا ہوں تو انہوں نے مجھے یہ نوٹ دکھایا۔‘
نورِ عالم چوہدری اپنی بیٹی کے ہمراہ 3 اپریل کو انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے جونیئرز ٹورنامنٹ کے میچز کے لیے پاکستان آئے تھے۔
اکبر نے اس کرنسی نوٹ کے بارے میں کہا: ’مجھے یہ بہت خوبصورت لگا۔‘
یہ کرنسی نوٹ جس پر انگریزی، اردو اور بنگالی زبان میں تحریر درج ہے، اس دور کی ایک نازک یادگار ہے جب موجودہ بنگلہ دیش اور پاکستان ایک ہی ملک تھے۔
بنگلہ دیش، جو پہلے مشرقی پاکستان کہلاتا تھا، 1971 کی خونریز خانہ جنگی کے بعد اس وقت کے مغربی پاکستان سے الگ ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ طویل عرصے تک دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز رہا۔ تاہم 2024 کے بعد جب وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو معزول کیا گیا، جو انڈیا کی اتحادی سمجھی جاتی تھیں، تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
![]()
1950 کی دہائی کے 100 روپے کے نوٹ کی دونوں اطراف کا عکس (محمد عاصم)
نور عالم چوہدری یہ نوٹ ڈھاکہ سے بطور خاندانی ورثہ ساتھ لائے تھے۔
انہوں نے کہا: ’میری والدہ اور ان کی چھوٹی بہن نے 1960 کی دہائی میں بطور گرل گائیڈ مری اور اسلام آباد کا سفر کیا تھا۔ انہوں نے یہ 100 روپے کا نوٹ میری بیٹی کو دیا۔‘
چوہدری کی بیٹی یانا اس وقت اسلام آباد میں 13 سے 18 سال کے کھلاڑیوں کے لیے جاری آئی ٹی ایف جونیئرز ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ دونوں 25 اپریل تک پاکستان میں قیام کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نویں جماعت کی طالبہ نے بتایا کہ والد کے ساتھ ڈھاکہ سے روانگی سے قبل ان کی دادی نے انہیں یہ نوٹ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے پاکستان لے جائیں۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا: ’میں نے یہ اپنے والد کو دیا اور انہوں نے یہ اکبر صاحب کو دیا۔‘
یہ بینک نوٹ 24 دسمبر 1957 کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے جاری کیا تھا، جس پر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر موجود ہے، جو اس وقت کے متحدہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے جغرافیے کی نمائندگی کرتا ہے، جو اب دنیا کے نقشے پر موجود نہیں۔
نورِ عالم چوہدری کے لیے یہ کاغذ محض یاد نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ دونوں قوموں کے لیے ایک بہت قیمتی چیز ہے، بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں دونوں کے لیے، کیونکہ اس پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دو زبانیں لکھی ہوئی ہیں۔ اردو اور بنگالی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان۔‘
محمد علی اکبر نے بھی اس عمل کی خاموش اہمیت کو محسوس کیا۔
انہوں نے کہا: ’شاید میں اس سے کوکا کولا کی ایک بوتل بھی نہ خرید سکوں، لیکن اس کی اپنی ایک قدر ہے۔‘
![]()
بنگلہ دیشی شہری نورِ عالم چوہدری (بائیں) اسلام آباد، پاکستان میں 17 اپریل 2026 کو پاکستان ٹینس فیڈریشن کے ٹینس کورٹ کے باہر اپنے خاندان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں (عرب نیوز)
نورِ عالم چوہدری کا اسلام آباد کا سفر بھی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ دونوں ممالک نے اس سال جنوری میں 14 سال کے وقفے کے بعد براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کیں۔ یہ پروازیں 2012 میں اس وقت کی شیخ حسینہ حکومت نے ’سکیورٹی‘ خدشات کے باعث معطل کر دی تھیں۔
انہوں نے کہا: ’بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان براہِ راست پروازیں نہیں تھیں۔ اب ڈھاکہ سے کراچی کے لیے پروازیں شروع ہوئی ہیں، تو ہم نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔‘
یہ نوٹ اگرچہ طویل عرصے سے زیرِ گردش نہیں، مگر جب نورِ عالم چوہدری نے اسے محمد علی اکبر کے ہاتھ میں دیا تو اس نے ایک گہرا احساس پیدا کیا، مشترکہ ماضی سے وقتی ربط کا احساس۔
محمد علی اکبر جو برسوں سے برصغیر کی تاریخ کے بارے میں لکھتے رہے ہیں، کے لیے ایسے نوادرات محض دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا: ’اگر آپ ماضی سے سیکھیں تو مستقبل کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔ ہم ایک وقت میں ایک ہی قوم تھے اور اب حالات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں۔ یہ چھوٹی چیزیں ایک دریا بن سکتی ہیں۔‘
نورِ عالم چوہدری اور ان کے خاندان کے لیے یہ دورہ، خاص طور پر ان کی بیٹی کا پاکستان کا پہلا سفر، غیر متوقع گرم جوشی سے بھرپور رہا۔
یانا نے کہ: ’یہ میرا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے، مہربان اور خوش آمدید کہنے والے ہیں۔‘
پاکستان ٹینس فیڈریشن کے ٹینس کورٹ کے دھوپ سے روشن میدانوں میں یہ دھندلا سا نوٹ اپنی چھوٹی مگر دیرپا یاد چھوڑ گیا۔
محمد علی اکبر نے نوٹ کو ہاتھ میں دیکھتے ہوئے کہا: ’اس نے جتنا ہو سکتا تھا اپنا کام کر دیا ہے۔‘
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·