پاکستان کے حکام کے مطابق اس وقت ملک کو بجلی کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے جو تقریباً 4500 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس کے باعث حکام کو کئی علاقوں میں شام کے مصروف اوقات کے دوران لوڈ مینیجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کرنا پڑ رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں پاور ڈویژن نے کہا کہ وہ ’پن بجلی کی دستیابی میں کمی کے باعث اضافی لوڈ مینجمنٹ پر معذرت خواہ ہے۔‘
پاور ڈویژن کے ترجمان نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ رات کے اوقات میں خصوصا بجلی کا استعمال کم کریں اور توانائی بچانے کی عادات اپنائیں۔
تاہم ملک بھر سے صارفین 10، 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی شکایت کر رہے ہیں۔
بدھ کو طلب اور رسد کے درمیان فرق اس وقت مزید بڑھ گیا جب بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک جا پہنچی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ راتوں رات پن بجلی کی پیداوار میں لگ بھگ 1991 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی، جس سے نظام پر شدید دباؤ پڑا اور مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کو علاقائی طلب کے مطابق لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کرنا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اس وقت صوبوں کی ضروریات کے مطابق پانی چھوڑ رہی ہے، جو حالیہ بارشوں اور جاری فصل کٹائی کے سیزن کے باعث معمول سے کم ہے۔
اس کے نتیجے میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوا ہے، جس نے براہ راست بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔
تاہم کئی صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے رقم وصول کرنے والے گیس اور تیل کے پلانٹس کیوں کمی پوری نہیں کر رہے ہیں؟ آغاز میں حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی میں بحران کی وجہ سے ایندھن کی ترسیل میں کمی بجلی بحران کی وجہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس صورت حال کے باعث تقسیم کار کمپنیوں کو رات کے اوقات میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ لوڈ مینیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ تاہم پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ دن کے وقت بجلی کی فراہمی مستحکم ہے اور مصروف اوقات کے علاوہ کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں ہے۔
وزیر اعظم آفس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور پاور ڈویژن سے طلب و رسد کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ صورت حال کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کیے جا سکیں، جن میں مقامی گیس کی فراہمی بڑھا کر کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔
حکام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ دباؤ کے باوجود یہ صورت حال عارضی ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں متوقع اضافہ پن بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا، جب کہ ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی بہتر دستیابی تھرمل بجلی کی پیداوار کو سہارا دے گی۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں پاور ڈویژن نے پہلے واضح کیا تھا کہ حکومت نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور کے الیکٹرک میں ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینیجمنٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حالیہ کمی میں اضافے کے بعد یہ واضح نہیں کہ یہ رعایت برقرار رہے گی یا نہیں۔
.png)
3 hours ago
1



English (US) ·